تحدیث نعمت — Page 314
لم اسم تیسری گول میز کانفرنس کے مسلم مندوبین | تیسری گول میز کانفرنس کے مندر بین کا انتخاب ان دنوں ہوا مندوبین جب میں میاں فضل حسین صاحب کی رخصت کے سلسلہ میں قائمقام ممبر وائٹ اسے کونسل تھا۔وائسرائے کی کونسل کے اجلاس میں میں نے جو نام مسلم وند کی رکنیت کیلئے پیش کئے ان میں سے ایک تو وائسرائے نے نورا الا تا رد کر دیا۔باقی ناموں پر میرے رفقاء نے اتفاق کیا اور ان کے نام غیر مسلم نمائندگان کے ناموں کے ساتھ وہ یہ مہند کی خدمت میں بھیج دیئے گئے۔وزیر مند نے میرے تجویز کردہ ناموں میں نئے کے متعلق اختلاف کیا (قائد اعظم مسٹر جناح کے متعلق تو لکھا وہ ہربات پر تنقید توبہت کڑی کرتے ہیں لیکن کوئی اثباتی حل میں نہیں کرتے۔اب انہوں نے مستقل طور پر لندن میں رہائش اختیار کر لی ہے۔ہندوستان کے معاملات کے ساتھ ان کا براہ راست تعلق نہیں رہا۔علامہ ڈاکٹرسر محمد اقبال صاحب کے متعلق لکھا۔وہ دوسری گول میز کانفرنس میں تشریف لائے تھے لیکن انہوں نے کانفرن کے دوران میں ایک لفظ بھی نہیں کہا۔میں نے دونوں اصحاب کی شمولیت پر پر زور اصرار کیا اور وائسرائے نے میری معروضات ذزیہ سند کی خدمت میں بھیج دیں۔بالآخر وہ ڈاکٹر صاحب کو شامل کرنے پر تو رضامند ہو گئے لیکن (قائد مسٹر جناح صاحب کے متعلق میری سعی نا کام رہ ہی۔تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت چار مہینے کیلئے میاں صاحب کی جگہ حکومت ہند میں کام کرنے کا جو موقعہ مجھے ملا اس سے تیسری گول میز کانفرنس میں زیر بحث آنیوالے امور پرمجھے حکومت ہند اور کسی حد تک زریہ ہند کے موقف کا علم ہو گیا۔اور اس سے مجھے تیری گول میز کانفرنس میں بہت مدد ملی۔جب ہم لندن میں ہرنائی نیں سر آغانماں کی خدمت میں حاضر ہوئے تو بعض اراکین وند نے سر آغا خاں کی خدمت میں گذارش کی کہ فرقہ وارانہ نیابت کا فیصلہ تو ہو گیا لیکن ہمارے باقی مطالبات کے متعلق ہمیں پختہ طور پر معلوم ہونا چاہئیے تاکہ ہم یہ فیصلہ کر سکیں کہ امور زیر بحث پر ہم کیا موقف اختیار کریں۔آپ وزیرہ ہند سے ملیں اور ان سے کہیں کہ وہ بالمشافہ مارے تھے بات چیت کرکے ہمیں بتائیں کہ ہمارے مطالبات کو وہ کس حدتک منظور کرنے کیلئے تیار ہیں۔برائی ان سر آغا خانصاحب نے میرے لندن پہنچنے پر مجھے ہدایت دی تھی کہ میں دن وفد کی ملاقات ان سے جو اس دن میں وقت مقررہ سے چند منٹ پہلے ان کی خدمت میں حاضر ہو جایا کروں اور ملاقات کے چند منٹ بعد بھی ٹھہر جایا کروں۔اس ارشاد کے مطابق میں باقی اراکین کے رخصت ہو جانے پر آپ کی خدمت میں بھرا رہا۔آپنے فرمایا یہ تو بی ٹیڑھا مطالبہ ہے۔وزیربند تو کبھی اس پر رضامند نہیں ہوں گے اگر وہ اس طریق سے الگ الگ گفتگو کرنے لگے توچند دنوں میں کانفرنس کا سلسلہ ختم ہو جائے گا۔کیونکہ کسی فریق کا ان پر اعتماد نہیں رہے گا۔تمہاری اس کے متعلق کیا رائے ہے ؟ میں نے مشورہ دیا کہ وفد کی خوشنودی کی کی خاطر آپ وزیر سند سے ملیں اور ان کا رد عمل معلوم ہونے پر فیصلہ فرمائیں کہ رند کو کیا طریق اختیار کرنا چاہیئے۔تین چار دن بعد ہر بائی کسی نے بتایا کہ وہ وزیر ہند سے ملے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ مشکل مرحلہ تو فرقہ وارانہ نیابت کے فیصلے کا تھا جو