تحدیث نعمت — Page 315
طے ہو چکا ہے۔باقی مطالبات کے متعلق جہاں تک میرا اندازہ ہے کسی دوسرے عنصر کی طرف سے کسی قسم کی مخالف نہیں اور حکومت کو کوئی دقت پیش نہیں آنی چاہیے۔لیکن حکومت برطانیہ ان امور کا فیصلہ بیک وقت کرنے پر آمادہ نہیں ہو گی۔اب کرنے کے یعنی ہوں گے کہ حکمت سلم وند کے ساتھ لگ سمجھوتا کرنا چاہتی ہے۔یہ نامناسب بھی ہے اور سلم وند کے مفاد کے بھی خلاف ہے۔کانفرنس کے نمائندگان میں سے جب کوئی مجھ سے ملنا چاہتا ہے میں انکار نہیں کرتا لیکن کسی درند کے خصوصی مطالبات کے متعلق مجھ سے گفتگو نہیں ہوئی مسلم وفد کے اراکین پہلے بھی مجھ سے ملتے رہے ہیں اور اب بھی خوشی مل سکتے ہیں مطالبات کے متعلق اطمینان کرنے کا طریق یہ ہے کہ کانفرنس کے دوران میں میں مختلف سائل کے متعلق حکومت کا نظریه بیان کرتا رہوں گا ایسے مواقع پر متعلقہ امور کی نسبت مزید وضاحت حاصل کرنے کے لئے مجھ سے آزادانہ سوال کئے رہتے ہیں۔میں صفائی کے جواب دیا جاؤں گا۔اگر وند کی طرف سے کسی ام کی وضاحت کرنے کی ضرورت محسوس ہو تو آپ خود مجھ سے مل لیا کریں یا ظفراللہ خان کو بھیج دیا کریں وہ پچھلے چند ماہ میں بہت حد تک حکومت کے نقطہ نگاہ سے واقف بھی ہو چکا ہے۔میں نے ہزہائی نس کی خدمت میں گذارش کی کہ جو کچھ وزیر بنانے ان سے کہا ہے وہ وفد سے ذکر کر دیں لیکن اگر مناسب سمجھیں تو جو کچھ میری نسبت کہا گیا ہے اس کا ذکر نہ فرمائیں۔تہائی نس نے وزیر سند کے ساتھ گفتگو کا خلاصہ وفد کے سامنے بیان کر دیا اور درند کا اطمینان ہو گیا۔رقہ وارانہ نیابت کے فیصلے کے متعلق میرے دل میں ایک خلش سی تھی۔دوسری گول میز کانفرنس کے دوران میں وزیر ہند کے متعلق مجھے یہ اندازہ ہوا تھا کہ وہ سلم مطالبات کو ہمدردی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جب فرقہ وارانہ نیابت کے معاملے میں حکومت ہند کی سفارشات کے متعلق انہوں نے اپنے تاریں ایسی تم میں تو نہ کیں تو بنگال اور پنجاب میں سلم پوزیشن کو کمزور کرنے والی نہیں تو مجھے اس سے صدمہ ہوا اور افسوس بھی جو کہ میرا نداز ان کے متعلق غلط نکلا تیری گول میز کا نفرنس کے دوران میں بھی مجھے ان کا رویہ ہمدردانہ ہی معلوم ہوا۔اور ذاتی طور پر میرے ساتھ توان کا سلوک مشفقانہ تھا یہ تفاوت میرے لئے ایک الجھن بن گیا لیکن جلد ہی یہ عقدہ حل ہو گیا۔تیسری گول میز کانفرنس کے ابتدائی ایام میں فدیہ اعظم میکڈانلد نے بعض نمائندہ گانی کو ہاؤس آف کامنز کی عمارت میںاپنے کمرے میں فرد فردا ملاقات کا موقعہ دریا مجھے بھی ان کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارشاد ہوا۔میں ملاتو فرمایا جب سے آپ لوگ دوسری گول میز کانفرنس سے فارغ ہو کر گئے ہیں میں بہت سے بھی قضیوں کا سامنا رہا ہے۔اسلئے میں ذاتی طور پر ہندوستان کے معالمات کے لئے زیادہ وقت نہیں نکال سکا اس اثنا میں فرقہ وارانہ نیات کا قضیہ تو طے ہوگیا ہے۔میں چھوت اقوام کی نمائندگی کے متعلق کچھ مزید اقدام کرنا چاتا تھا لیکن میرے رفقاء رضامند نہ ہوئے، پنجاب اور بنگال میں بھی اپنے رفقاء کے اصرار پر مسلمانوں کو میری اپی تجویز سے زاید نمائندگی دنیا پڑی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ تم لوگ بشاشت سے اس پر رضا مند ہو جاؤ گے اور اب ملکہ باقی معاملات طے کر سکو گے ؟ " مجھے اس اس سے تو کوئی حیرت نہ ہوئی کہ وزیر اعظم مجھے مسلم نمائندہ سمجھ رہے ہیں۔وہ پیش فرمانیاں