تحدیث نعمت — Page 313
سم اسمه سے پنجاب میں کوئی نشست نہیں۔معاہدہ پر نامیں ان کے لئے پنجاب میں نشستوں کی تخصیص کی گئی ہے۔کل کو پنجاب کے ہند کہ سکتے ہیں کہ میں معاہدہ پونا کا یہ حصہ منظور نہیں اس صورت میں ایک نئی مشکل پیدا ہو جائے گی۔وائسرائے۔تم مشکلی ہی بیان کرتے ہو کوئی عمل تھی تو بتاؤ۔ظفر اللہ - اجازت ہو تو حمل بھی عرض کر دیتا ہوں۔والسرائے۔کہو ! لیکن وقت بہت تنگ ہے۔۔۔۔ظفر اللہ۔آپ اس وقت اجلاس ملتوی کر دیں پرائویٹ سیکر ٹری صاحب کو ارشاد فرمائیں کہ وہ سر داد سکندر حیات خالصاحب کو (جو اس وقت تا مقام گورنہ پنجاب تھے) اس مشکل سے آگاہ کریں اور ان سے کہیں کہ مندر جہ ذیل تین ہندو لیڈران کو بھو اس وقت شمے میں موجود ہیں طلب فرمائیں۔(1) ڈاکٹر گوگل چند نارنگ صاحب جو پنجاب کی وزارت میں ہندو زیمہ میں (۲) راجہ نریندر ناتھ صاحب جو پنجاب کو نسل میں ہندو پارٹی کے لیڈر ہیں۔(۳) بھائی پر مانند صاحب تو مرکزی اسمبلی میں پنجا کے ہندؤں کے نمائیندے ہیں۔ان حضرات سے دریافت کریں کہ وہ معاہد ونا و سلیم کرتے ہیں انہیں اگر وہ ہیں کہ سلیم کرتے ہیں تو غرض پوری ہوگی۔اگر وہ کہیں کہ تسلیم نہیں کرتے توان پر واضح ردی کہ تاخیر کی ذمہ داری ان پر ہوگی اور اگر کوئی ناگوار صورت پیداہوگئی تو الزام ان پر آئے گا۔میر انداز ہے کہ اس پر یہ اصحاب رضامند ہو جائیں گے اور یہ ذمہ داری اٹھانے پر تیار نہیں ہوں گے۔لیکن اگر آج انہیں پابند نہ کیا گیا توکل معاہدہ پونا کے سرکاری طور پر منظور ہوانے کے بعد ممکن ہے وہ انکار کریں کہ ہم سے کسی نے پوچھا نہیں۔آخر یہ تجویز منظور ہوگئی، اس وقت دور پر کا وقت تھا کونسل کا اجلاس چھ بجے تک ملتوی ہوا سر سکندر حیات مخالف جتنے رپورٹ کی کہ داعیہ نم نیاره نا تھ صاحب تو شملہ سے آج ہی لاہو یہ جانیکے لئے روانہ ہو چکے ہیں۔اسلئے ان سے بات نہیں ہوسکی۔ڈاکٹر گوکل چند صاحب نارنگ اور بھائی پر مانند صا حب سے بات ہوئی ہے۔ڈاکٹریا سب تو چارونا چار رضامند ہوگئے لیکن بھائی پر انار مانو نے فرمایا کہمیں اس طریق کو صیح تسلیم نہیں کرتا جو گاندھی جی نے اختیار کیا ہے۔قومی حقوق ایک شخص کے تیہ رکھ لینے یا ترک کر دینے سے طے نہیں کئے جاسکتے۔یہ قوم کے حقوق کا سوال ہے پنجاب کے ہندوں کی اس میں سخت سحق تلفی ہے میں اس معاہدہ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔اس پر ڈاکٹر نارنگ صاحب نے بھائی پر مانند اس سے کہا میں آپے لیکن اسوقت بہت مشکل مرحلہ در پیش ہے۔گاندھی جی کی زندگی کا سوال ہے۔اگر ہمارے کسی مغل سے ایسی قابل انقرام ستی کی صحت کوکوئی گزند پہنچ گی توہم قوم کو کیا نہ دکھائیں گے ؟ کچھ دیر تو بھائی پر ماندانی مدیر قائم رہے لیکن آخر آبدیدہ ہو کر ڈا کر نارنگ سے کہا میرا دل تو نہیں مانتا لیکن آپ کے زور دینے سے میں ہاں کہہ دیتا ہوں۔یہ رپورٹ ملنے پ کون نے معاہدہ ہونے کی تصدیق وزیر سند کی خدمت میں ارسال کر دی اور حکومت برطانیہ نے سے تلیم کر لیا گاندھی جی نے اپنا بیت ترک کر دیا۔