تحدیث نعمت — Page 287
PAZ وزیہ ہند سے کہیں کہ دو ڈاکٹر انصاری صاحب کو لندن بلائیں۔ان کے آنے پر اس مسئلے پر گفتگو ہوسکے گی دیر تک اس پر کی ہوئی میل ون کیلئے یہ تجویز بالکل ناقابل قبول تھی۔گاندھی جی کی اس تجویہ سے صریحا یہ مرا بھی کریم لوگوں نے زور دیا تھا کہ ڈاکٹر البخاری صاحب کو کانگریس کے وفد سے الگ کا نفرنس میں شمولیت کیلئے دعوت نہ دیجائے۔اب تم میں وہ یہ سنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرو کہ ہم سے سخت غلطی ہوئی۔اب ہمیں معلوم ہوگیا ہے کہ ڈاکٹر انصاری کی لندن میں موجود گی نہایت ضروری ہے۔اسلئے ہم آپ سے بادب استدعا کرتے ہیں کہ آپ ڈاکٹر صاحب کو بذریعہ تار کانفرنس میں مولیت کی دعوت دیں۔جب اس ابتدائی مشکل کا کوئی محل سرقت نظریہ آیات میں نے کچھ کہنے کی اجازت چاہی۔اور بادی گزارش کی کہ کیا یہ بہترنہ ہوگا اگر فی الحال اس مسئلے کو ایک طرف رہنے دیا جائے۔اگر باقی سب مسائل پر مجھوتا ہو جائے تو گاندھی جی اور ہم سب ملکر ڈاکٹر انصاری صاحب کی خدمت میں بذریعہ تار در خواست کریں کہ وہ تشریف لاکر گفتگو می شامل ہوں۔یہ طریق یقینا ڈاکٹر صاب کیلئے زیادہ موجب اعرانہ ہو گا بہ نسبت اس کے کہ ان کو ملوانے کے لئے ایسی حکومت کے وزیر خارجہ سے درخواست کی جائے جیسے گاندھی جی شیطانی حکومت شمار کرتے ہیں۔میری گذارش پر گاندھی جی مسکرائے اور سر بلا کہ اس تجوید سے اتفاق کا اظہار کیا۔گاندھی جی اور سلم وند کے در میان گفت وشنید کاسلسلہ دو تین نشستوں میں جاری در ماه فرقه داران نیابت کے مسئلے کے علاوہ کسی اور مسئلے پر کوئی نا قابل حل اختلاف نمودار نہ ہوا۔نیابت کے مسئلے پر گاندھی جی کا دہی موقف رہا کہ میلہ نجر ڈاکٹر انصاری صاحب کی موجودگی کے حل نہیں ہوسکتا۔انہوں نے اپنی رائے یہ ظاہر کی کہ جدا گانہ نیابت کے طریق کو ملک اور خود مسلمانوں کیلئے حد درجہ مصر اور نقصان دہ تلقین کرتے ہیں۔البتہ اگرمسلمان پورته غور و فکر کے بعد اسی بات پر مصر ہوں کہ ان کے حقوق کے تحفظ کیلئے یہ طاقت ضروری ہے اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں تو وہ بادل ناخواستہ اپنی رائے کے خلاف اس طریق کے قبول کرنے پر رضامند ہو جائیں گے بشرطیکہ ڈاکٹر انصاری بھی اسے قبول کرنے پر تیار ہوں۔سوال کیا گیا کہ اگر ڈاکٹر صاحب بجدا گانہ نیات کے طریق کو قبول رنے پر تیارنہ ہوں توکیا موت ہوگی۔گاندھی جی نے فرمایا ایسی صورت میں میں انہیں رضامند کرنے کی کو شش کروں گا اور آپ صاحبان کی طرف سے وکالت کروں گا۔اس مرحلے پر مزید وضاحت کیلئے میں نے کچھ سوال کرنے کی اجازت چاہی گاندھی جی نے اجازت دیدی۔میں نے گذارش کی کہ جب آپ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں پوری وکالت کر لیں اور ڈاکٹر احب بتا یا کہیں کہ جدا کان یان کاری یک کیلیے بھی اورمسلمانوں کیئے بھی سم قاتل کا حکم رکھتا ہے اس لئے وہ اس مسئلے میں آپ کے فرمان کی تعمیل سے قصر میں تو آپ کی پوزیشن کیا ہوگی ہے فرمایامی ڈاکٹر صاحب کا ساتھ دوں گا۔میں نے دریافت کیا اگر ڈاکٹر صاحب آپکی وکالت کے نتیجے میں علا مانہ نیابت