تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 288 of 736

تحدیث نعمت — Page 288

کے طریق کو قبول کرنے پر رضامند ہو جائیں لیکن باقی کانگریسی سلم متفقہ طور پر اس کے خلاف اظہار رائے کریں تو آپ کسی کے ساتھ ہوں گے ؟ فرمایا ڈاکٹر ھات کے ساتھ۔میں نے دریافت کیا اگر کانگر کیسی ہم سب متفقہ طور پر فرقه دارانہ معاہت کی خاطر جدا گانہ نیابت کے طریق کو قبول کرنے کے حق میں ہوں لیکن ڈاکٹر انصاری صاحب اس کے خلاف مصر موں تو آپ کا کیا موقف ہو گا ؟ فرمایا میں ڈاکٹر انصاری کے ساتھ ہوں گا۔جب قائد اعظم مسٹر تاج کے باقی تیرہ لکت کے متعلق گاندھی جی نے اتفاق رائے کا اظہار کر دیا اور صرف جدا نہ نیابت کا مسئلہ ڈاکٹر انصاری صاحب کی ہاں یا نہ کا محتاج رہ گیا تومسلم وفد نے گاندھی جی سے درخواست کی کہ اس مفاہمت کی تکمیل کیلئے اب جو کچھ لم وند کو کرنا ہر اس سے مطلع فرمائیں۔گاندھی جی نے فرمایا کہ دین دن تک اس سوال کا جواب بھجوا دیں گے۔دو تین دن بعد گاندھی جی کی طرف سے ایک کاغذ کا پرندہ موصول ہوا جو نیل کھایا اور میں نہ کوئی کاری رات تھی نہ کو منوا ا ا ا ا استری کا یہ ایک مقامات کی صورت میں گاندھی بی یلم درد سے یہ توقع رکھیں گے کہ مسلم وقد کانفرنس میں ان کی طرف سے پیش کردہ تمام مطالبات کی تائید کرے۔ان مطالبات کی کسی قدر وضاحت اس تحریر میں تھی۔مثلا یہ کہ کامل آزادی کے مطالبے میں فوج اور مالیات پر کامل اختیار شامل ہوگا۔بیان تک تومسلم رند کے لئے کوئی وقت نہیں تھی۔ان کے حقوق کا تحفظ ہو جانے کی صورت میں وہ کامل آزادی کا مطالبہ کرنے میں گاندھی جی کے دوش بدوش تھے۔لیکن گاندھی جی کی تحریر میں یہ مطالبہ بھی درج تھا کہ مفاہمت کی یم اما انا انا اقوام کے لے مراعات کی تائید نہیں کرے گا مکان کے خلاف موقف اختیار کرے گا۔اس مطالبے پر مسلم وفد نے پورا غورکیا اور و فلاس نتیجے پر پہنچ کہ یہ مطالبہ اس شکل میں قابل قبول نہیں۔گاندھی جی نے تحریمہ فرمایاتھا کہ اچھوت اقوام کے لئے خاص مراعات تجویز کرنے کا نتیجہیہ ہو گا کہ ہندو سوسائٹی میں تفرقہ پیدا ہو جائے گا جو اس کی کھیتی کو یہ باور کر دے گا۔مسلم وند نے طے کیا کہ جب اچھوت اقوام کے مقابلے میں تعداد میں زیادہ اور تعلیم ، تجارت، صنعت ر سرفت میں ان کی نسبت کہیں آگے ہوتے ہوئے مسلمانوں کی طرف سے علم وند کو تحفظ حقوق پر اصرار ہے تو وہ کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ اچھوت اقوام کسی تحفظ کی محتاج نہیں۔البتہ علم دند یہ موقف اختیار کر سکتا ہے کہ بچھوت اقوام کے حقوق کے تحفظ کا سوال ہند و سوائی کا نجی مسئلہ ہے۔اس مسئلے پر پند و نمایندگان کی جو مفاہمت اچھوت اقوام کے ساتھ قرار پائے ملم ونفاس کی تائید کردیگا۔چنانچہ اس فیصلے کے مطابق گاندھی جی کی خدمت میں جواب بھیج دیا گیا۔اچھوت اقوام کی نیت یہ موقف گاندھی جی کو منظور نہ ہوا اور گفتگو کاسہ اس مسلے پر پہنچ کر رک گیا۔کانگریس کی شمولیت کی دوری سے دوسری گول میز کانفرنس کے متعلق جو توقعات پیدا ہوئی تھیں وہ تو پوری نہ ہوئیں۔گاندھی جی کی موجودگی کا فرانش ی افتاد در رفتار میں کوئی انقلاب پیدا نہ کرسکی۔گاندھی جی کی آمد پرلندن کے بعض حلقوں میں کانفرنس مں کچھ دچی پیدا ہوئی تھی۔لیکن وہ بہت جلد ختم ہو گئی۔