تحدیث نعمت

by Sir Muhammad Zafrulla Khan

Page 218 of 736

تحدیث نعمت — Page 218

PIA فرمایا کہ دعاکریں گے۔خاکسار نے شیخ صاحب کی خدمت میں یہ کیفیت لکھ دی اور اپنا وثوق ظاہر کیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ضرور کامیابی ہو گی۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسا ہی کیا۔حضور کے قیام انگلستان کے دوران میں اخبارات میں حضور کے وردد اور قیام کا بہت چہ بھا تھا۔مکان پہ ملاقاتیوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہتا۔بعض اوقات اور خصوصاً مفتہ اور اتوار کی سر پر کو ملاقاتیوں کا سلسلہ اتنا وی ہو جاتا کہ حضور ملاقاتیوں کو بامرا کھانے کے لئے بھر لیتے۔جو کھانا یہ ہوتا ملاقاتیوں کو کھلا دیا جاتا۔حضور اور حضور کے رفقاء روٹی ، پنیر اور چائے پر گزارا کرتے۔آٹھ دس مفتوں کے قیام کے دوران میں حضور دو بار نمائش دیکھنے ویلے تشریف لےگئے اور ایک بارہ مہل قدمی کے لئے ٹانڈ پارک بھی تشریف لے گئے۔ایک دفعہ بلدیہ کی دعوت پر برائٹن تشریف لے گئے۔ایک دفعہ جماعت کے ایک انگر یہ فرد کی دعوت پر پورٹ سمنتھ تشریف لے گئے۔باقی سارا وقت کا نفرنس کے سلسلہ میں اور سنجی طور پہ بلا واسطہ اعلائے کلمۃ اللہ میں گزارا۔حقیقت تو یہ ہے کہ حضور کا تمام وقت بلکہ تمام شعوری زندگی ہی اسی دھن میں گزری کہ دنیا بھر میں اللہ تعالی کا نام بلند ہوں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قبولیت پھیلے ، اسلام کا جھنڈا ہر بلندی پر لہرائے۔حضور نے ایک مضمون کا نفرنس میں پڑھنے کے لئے تیار کیا۔جس کا انگریزی ترجمہ کرنے کیلئے خاکے کو ارشاد ہوا۔جس تقریب میں حضور شمولیت فرماتے حضور کے کلمات طیبات اور حضور کی تقریہ کی ترجمانی کی سعادت خاکسار کو نصیب ہوتی۔الحمدلله۔یک موقعہ پر چندغیرمسلم ہندوستانی طلباء نے حضور کو چائے کی دعوت دی حضورت نے مقبول فرمائی۔حضور کے ساتھ ذکر کئے بغیر ان کی طرف سے اس موقعہ پر حضور کی خدمت میں ایک ایڈرس پیش کیا گیا جس سے مترشح ہوتا تھا کہ انہیں یہ خیال ہے کہ حضور حکومت بر طانیہ کی دعوت پر حکومت کے مہمان کے طور پہ تشریف لائے ہیں۔اور حکومت برطانیہ کی غرض یہ ہے کہ حضور ہندوستانی طلباء کو حکومت کی وفاداری کی تلقین کریں۔غالباً ان کے زمین میں یہ نقشہ ہو گا کہ قادیان میں کوئی بڑی خانقاہ ہے اور حضور اس کے مجادر علی ہیں۔ایڈریس پڑھے جانے کے بعد حضور نے ایڈریس کے جواب میں آزادی اور اس کے حصول کے طریق کے متعلق الیا اطمینان کن خطاب فرمایا کہ میزبانوں کے چہروں سے پہلے حیرت اور پھر مسرت کے جذبات بیساختہ ظاہر ہونے لگے۔اور مجھے یقین ہے کہ انہیں اپنے سراسر غلط اندارئیے پر ندامت بھی ضرور محسوس ہوئی ہوگی۔حضورہ کے خطاب کے بعد ان میں سے ہر ایک کی ہر حرکت سے اپنے معز مہما کا انتہای احترام واکرام ظاہر ہوتا رہا۔چودھری غلام مصطفی الہی صاحب مرحوم ایڈوکیٹ گوجرانوالہ ان دنوں لندن میں بیرسٹری کی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔اگر چہ وہ سلسلہ احمدیہ میں شامل نہ تھے لیکن اپنی جیلی شرافت اور اخلاق کی وجہ سے انہوں نے حضور اور حضور کے سب رفقاء کی آکسفورڈ سٹریٹ کے لائنتر کارنہ اس میں وسیع پیمانے پر چائے کی دعوت کی۔اس سال میرے والدین حج کیلئے تشریف لے گئے تھے۔میں نے لاہور سے روانہ ہونے سے پہلے انہیں حج کے