تحدیث نعمت — Page 217
۲۱۷ لکھا حضور نے خاک رکو سفر کی اجازت مرحمت فرمائی اور بقیہ حصہ مسودے کا تمر حمد حضرت مولوی شیر علی است اور حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے سپرد فرمایا۔میں ابھی بہرین میں ہی تھا کہ مولوی عبدالر حیم نیر صاحب نے جو ان دنوں لندن میں سلسلہ احمدیہ کے مبلغ اور لندن مسجد کے امام تھے مجھے کہ حضور کا ارشاد ہے کہ حضور اور حضور کے رفقاء کے قیام کا انتظام میرے مشورے کے ساتھ کیا بجائے اس لئے مجھے جلد لندن پہنچنا چاہئے۔نیر صاحب کے ارشاد کی تعمیل میں آسکر اور میں لنڈن پہنچ گئے حضور کے قیام کے لئے نمبر ، چیشم پلیس کرایہ کیا گیا تو ہر لحاظ سے موزوں ثابت ہوا۔اس سال دیکھیلے میں ایک بڑی نمائش بھی ہوئی تھی لیکن مذاہب کی کانفرنس کا نمائش سے کوئی تعلق نہ تھا۔مذاہب کانفرنس کا انتظام ایمپیرئیل انسٹی ٹیوٹ میں کیا گیا تھا جوں ڈتھ کنسنگٹن میں واقع ach * ہے اور اس زمانے میں لندن یونیورسٹی کے مرکزی در قانتہ کا صدر مقام تھا۔ممکن ہے مذاہب کانفرنس کے منتظمین نے کا نفرض کے انعقاد کے لئے اس موقعہ کا اسلئے انتخاب کیا ہو کہ نمائش کی وجہ سے بہت سے مذہب سے دلچسپی رکھنے والے لوگ بھی لندن میں موجودہ ہوں گے۔اس کے علاوہ کانفرنس اور نمائش کا آپس میں کوئی تعلق نہ تھا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی کا ورود لندن | لندن مشن میں ان دنوں مولوی عبد الرحیم نیر صاحب نے کے ساتھ ملک نواب الدین صاحب مرحوم اور سمه دار مصباح الدین صاحب معادن تھے۔ماسٹر عز ینه دین صاحب مرحوم تجارتی صیغے کے انچارج تھے۔ماسٹر محمد دین صاحب امریکہ سے تشریف لائے ہوئے تھے اور حکیم فضل الرحمن صاحب مغربی افریقہ سے ، حضرت حافظ روشن علی صاحے ، خره حضرت خان ذو الفقار علی خان صاحب ، چودھری فتح محمد سیال صاحبت ، حضرت صاحبزاده برنزیا شریف احمد صاحب ، حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب ، حضرت مولوی عبدالرحیم درد صاحب حضر بھائی عبدالرحمن قادیانی صاحب ، حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب، چودھری محمد شریف صاحب ایڈوکیٹ رضی اللہ تعالی عنہم شیخ عبدالرحمن مصری صاحب اور چو دھری علی محمد صا حب حضور کی معیت میں تشریف لائے حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور چودھری محمد شریف صاحب ایڈوکیٹ اپنے مصارف سفر خود برداشت کر رہے تھے۔مسٹر آسکہ بجرنیلہ اور خاک ارہ کو بھی حضور کی تشریف آوری پر حضور کے دیگر خدام میں شامل ہونے کا فخر حاصل ہو گیا۔ان دنوں شیخ اعجانہ احمد صاحب کے صوبجاتی مجوڈیشل سروس میں لئے جانے کا معاملہ زیر غور تھا۔انہوں نے لکھا کہ حضرت صاحب کے لندن پہنچنے پر حضور کی خدمت میں میرے لئے دعا کی درخواست کرتا۔حضور کی تشریف آوری پر خاک اپنے شیخ صاحب کی درخواست کا ذکر کیا۔حضور نے کمال شفقت کے لہجے میں