تذکرہ — Page 758
۱۸۹۷ء ’’ اور ایک الہام یہ بھی ہوا۔’’ وَ قَادِرٌ عَلَی الْاِجْتِـمَاعِ وَ الْاِجْـمَاعِ وَ الْـجَمْعِ۔‘‘۱؎ (اصحابِ احمد مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب جلد ۲ صفحہ ۱۲۰ حاشیہ مطبوعہ اگست ۱۹۵۲ء مکتوب مرزا خدا بخش صاحبؓ) ۱۳یا ۱۴؍ جنوری۱۸۹۸ء حضرت حجۃ اللہ نواب محمد علی خان صاحبؓ نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔’’ہم کو خواب ہوا کہ ہماری جماعت کے ایک شخص کو ہم نے دیکھا۔لیکن ہم اس کو اُس وقت پہچانتا تھا اَب یاد نہیں۔ایک سونے کا کنٹھا پہنایا گیا ہے۔مَیں نے کہا کہ ایک رُومال بھی باندھ دو اور وہ رومال بھی باندھا گیا۔‘‘ (اصحابِ احمد مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب جلد ۲ صفحہ ۵۲۵، ۵۲۶ مطبوعہ اگست ۱۹۵۲ء ) مارچ۱۸۹۸ء ’’ خواب میں دیکھا کہ سیّد احمد صاحب کا ستارہ قریب۲؎غروب ہے۔‘‘ (مکتوب سراج الحق صاحب ؓ نعمانی صفحہ ۶) ۱۲؍ اپریل۱۸۹۸ء ’’لاہور سے ایک بی۔اے نوجوان بنّوں کا رہنے والا بڑا تیز طبع ہمارے حضرت ؑ کو دیکھنے کے لئے (آیا) … حضرت ؑ کے دل میں القاء ہوا کہ اس کے لئے دعا کرو۔دعا کی۔معاً اس کا قلب تبدیل کیا گیا اور بیعت کی درخواست کی۔‘‘ (اصحابِ احمد مؤلفہ ملک صلاح الدین صاحب حصّہ دوم صفحہ ۱۱۷ حاشیہ مطبوعہ اگست ۱۹۵۲ء۔مکتوب حضرت مولوی عبدالکریم صاحب ؓ بنام نواب محمد علی خان صاحبؓ) ۱۸۹۸ء میاں عبدالعزیز صاحب ؓ سکنہ لاہور المعروف مغل بیان کرتے ہیں کہ۔’’ایک دفعہ جبکہ حضور تریاقِ الٰہی بنا رہے تھے …حضرت خلیفہ اوّل ؓ کے مطب میں…حضرت صاحب ؑ … تشریف لائے اور فرمایا کہ مولوی صاحب مجھے الہاماً بتایا گیا ہے کہ یہ دَوائی گرم خشک ہے میری منشاء ہے کہ اِسے لَسّی سے کھلایا کروں۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ نمبر ۹ صفحہ ۲۰ ) ۱۱؍ اگست۱۸۹۸ء ’’ ھُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ مُرْغِـمِیْکَ فَـخَضَّـرَ دَعْوَاکَ۱؎۔‘‘ ۱ (ترجمہ از مرتّب) وہ جمع ہونے اور جمع کرنے اور جماعت بنانے پر قادر ہے۔۲ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) سر سیّد احمد خان صاحب کی وفات ۲۷ ؍ مارچ ۱۸۹۸ء کو ہوئی۔دیکھیے حیاتِ جاوید مؤلّفہ مولانا الطاف حسین حالی چھٹا باب ۱۸۷۸ء تا ۱۸۹۸ء صفحہ ۳۰۴۔