تذکرہ — Page 759
۱۱؍ اگست۱۸۹۸ء ’’ ھُوَ الَّذِیْ اَخْرَجَ مُرْغِـمِیْکَ فَـخَضَّـرَ دَعْوَاکَ۱؎۔‘‘ (ذکر حبیب مؤلّفہ حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓصفحہ ۲۱۶ مطبوعہ دسمبر ۱۹۳۶ء) ۶؍ مئی۱۸۹۹ء ’’رات عشاء کی نماز میں حضرت اقدس ؑ کی زبان پر الہاماً جاری ہوا۔وَاجْعَلْ اَفْئِدَ ۃً کَثِیْرَۃً مِّنَ النَّاسِ تَـھْوِیْ اِلَـیَّ یعنی انسانوں کے بہت سے دلوں کو میری طرف جھکادے۔یہ ایک بشارت ہے سلسلہ کی ترقی کے متعلق۔‘‘ (خط نمبر ۱۲ از مولوی عبدالکریم صاحبؓ سیالکوٹی ۶؍ مئی ۱۸۹۹ء۔مندرجہ تشحیذ الاذہان جلد ۷ نمبر ۶۔جون ۱۹۱۲ء صفحہ ۲۴۷) ۱۲؍ جون۱۸۹۹ء ’’ ۱۲ ؍ جون ۱۸۹۹ء کو الہام ہوا۔سَیُـھْزَمُ الْـجَمْعُ وَ یُـوَلُّوْنَ الدُّ بُـرَ۔‘‘ (خط نمبر ۱۳ از مولوی عبدالکریم صاحبؓ سیالکوٹی مندرجہ تشحیذ الاذہان جلد ۷ نمبر ۶۔جون ۱۹۱۲ءصفحہ ۲۴۸) (ترجمہ) عنقریب یہ ساری جماعت بھاگ جائے گی اور پیٹھ پھیر لیں گے۔(براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۵۹۲) ۱۸؍ اکتوبر ۱۸۹۹ء ’’بِالفِعل خدا تعالیٰ نے میرے دل میں یہی ڈالا ہے کہ بیعت کرنے والے دو قسم میں رکھے جائیں گے ، ایک جو اعلیٰ اور صاف تر زندگی کے خواہشمند اور خدا تعالیٰ کے منشاء کی اطاعت کے لئے حاضر ہیں اور ایک وہ جو کسی قدر کمزور ہیں۔‘‘ (اقتباس مکتوب نمبر ۴ از مولوی عبدالکریم صاحبؓ سیالکوٹی مورخہ ۱۸؍ اکتوبر ۱۸۹۹ء مندرجہ تشحیذ الاذہان جلد ۷ نمبر ۶۔جون ۱۹۱۲ءصفحہ ۲۴۳،۲۴۴) ۱۸۹۹ء ’’حضرت اقدس ؑ کو رؤیاہوئی کہ حامد علی آکر کہتا ہے کہ باہر ایک ہندو کھڑا ہے اور دعا کے لئے درخواست کرتا ہے۔حضور اقدس ؑ اسے کہتے ہیں کہ بے نذر لئے ہم دعا کرنے کے نہیں۔پھر حامد علی دوبارہ واپس آتا ہے تو ایک چھوٹا بَیگ اور دو چادریں ہیں اُن میں روپیہ بھر کر لاتا ہے۔فرمایا۔ہندو سے مراد ایسا شخص ہوا کرتا ہے جو دنیا کے غم ھَم میں مبتلا ہو اور چاہے کہ کسی طرح دُنیوی ۱ (ترجمہ از مرتّب) وہی ہے جس نے تیرے بدخواہوں کو نکالا۔پھر تیرے دعویٰ کو سر سبز کیا۔