تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 722 of 1089

تذکرہ — Page 722

کو مٹانا چاہتی ہے مگر خدا تعالیٰ اسے بامراد نہیں کرے گا بلکہ حق کی عظمت ظاہر ہوگی۔‘‘ ( الحکم جلد ۱۱ نمبر ۴۳ مورخہ ۳۰؍ نومبر۱۹۰۷ء صفحہ ۱۱) ۲؍ دسمبر۱۹۰۷ء (الف) ’’ الہام۔۱۔اِنِّیْ مَعَکَ وَ مَعَ اَھْلِکَ۔۲۔اَحْـمِلُ اَوْزَارَکَ۱؎۔۳۔مَیں تیرے ساتھ اور تیرے تمام پیاروں کے ساتھ ہوں۔۴۔اِنَّ اللّٰہَ یَـحْمِلُ کُلَّ حِـمْلٍ۔‘‘۲؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۸) (ب) ’’ جب مَیں مضمو۳؎نختم کرچکا تو ساتھ ہی مجھ کو یہ الہام خدا کی طرف سے ہوا تھا۔اِنَّـھُمْ مَّا صَنَعُوْا ھُوَ کَیْدُ سَاحِرٍ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰی۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ النَّجْمِ الثَّاقِبِ۔(ترجمہ) آریہ لوگوں نے جو یہ جلسہ تجویز کیا ہے یہ مکّار لوگوں کی طرح ایک مکر ہے اور اس کے نیچے ایک شرارت اور بَد نیتی مخفی ہے مگر فریب کرنے والا میرے ہاتھ سے کہاں بھاگے گا۔جہاں جائے گا مَیں اس کو پکڑوں گا اور میرے ہاتھ سے چھٹکارا نہیں پائے گا۔تو مجھ سے ایسا ہے جیسا کہ وہ ستارہ جو شیطان پر گِرتا ہے۔‘‘ (اشتہار ۱۵؍ مئی ۱۹۰۸ء بعنوان باعث تالیف کتاب ہٰذا مندرجہ چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۷) (ج) ’’ اِنَّـھُمْ مَّا صَنَعُوْا ھُوَ کَیْدُ سَاحِرٍ وَ لَا یُفْلِحُ السَّاحِرُ حَیْثُ اَتٰی۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ رُوْحِیْ۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ النَّجْمِ الثَّاقِبِ۔جَآءَ الْـحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ۔‘‘۴؎ ( ضمیمہ چشمہ ء ِ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۴۳۶) ۱ (ترجمہ) ۱۔مَیں تیرے ساتھ اور تیرے اہل کے ساتھ ہوں۔۲۔مَیں تیرے بوجھ اُٹھائوں گا۔(بدر مورخہ ۱۹؍ نومبر۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۲ (ترجمہ) ۴۔خدا ہر ایک بوجھ کو آپ اُٹھائے گا۔(بدر مورخہ ۱۰؍ نومبر۱۹۰۷ء صفحہ ۲) ۳ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) یعنی وہ مضمون جو قادیان میں آریوں کے مذہبی جلسہ میں سنا نے کے لئے لکھا گیا تھا اور یہ مضمون چشمہ ٔ معرفت کے آخر میں بطور ضمیمہ شامل ہے۔۴ (ترجمہ) جو کچھ انہوں نے بنایا ہے وہ ساحر کی تدبیر ہے اور ساحر کسی راہ سے آئے وہ کامیاب نہیں ہوگا۔تو مجھ سے بمنزلہ میری رُوح کے ہے۔تو مجھ سے بمنزلہ اُس ستارے کے ہے جو قوت اور روشنی کے ساتھ شیطان پر حملہ کرتا ہے۔حق آگیا اور باطل بھاگ گیا۔( بدر ۱۲؍دسمبر ۱۹۰۳ء صفحہ ۳) (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ الہامات اُس لیکچر کی تصنیف کے وقت ہوئے جو ۳؍ دسمبر ۱۹۰۷ء کو لاہور میں پڑھا گیا۔