تذکرہ — Page 685
(یہ فرشتوں کو حکمِ الٰہی ہے)۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۱۵ مورخہ ۱۱؍اپریل۱۹۰۷ءصفحہ ۴) (ب) ’’ایک اَور قیامت برپا ہوئی۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر۱۵ مورخہ۱۱ ؍ اپریل۱۹۰۷صفحہ ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر۱۲مورخہ ۱۰ ؍ اپریل۱۹۰۷ءصفحہ ۱) ۸؍ اپریل۱۹۰۷ء ’’ ۱۔بلائے دمشق۔۲۔سِـرُّکَ سِـرِّیْ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات۲؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۰) ۹؍اپریل۱۹۰۷ء ’’ایک اَور بَلا برپا ہوئی۔‘‘ (الحکم جلد ۱۱ نمبر۱۲مورخہ ۱۰ ؍ اپریل۱۹۰۷ءصفحہ ۲) اپریل ۱۹۰۷ء ’’(شرمپت کی نسبت) ۱۔اتنے میں طاقت بالا اس کو کھینچ کر لے گئی۔۲۔فَارْتَدَّا عَلٰی اٰثَـارِھِمَا وَ وُھِبَ لَہُ الْـجَنَّۃُ۲؎۔۳۔مسلمان تو نہیں ہوگا پر مصدق ہوجائے گا۔۴۔یَا نَبِیَّ اللہِ کُنْتُ لَا اَعْرِفُکَ۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۹) ۱۱؍ اپریل۱۹۰۷ء ’’واصل خان دہلی میں واصلِ جہنّم فوت ہوگیا۔‘‘ (کاپی الہامات۴؎ حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۶ ) ۱۲؍ اپریل۱۹۰۷ء ۱۔’’ ۱۔شَدِّ۵؎دْ لِیْ۔۲۔اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ۔‘‘۶؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۴۷) ۱ (ترجمہ) ۲۔تیرا بھید میرا بھید ہے۔(بدر مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ۱۱ اپریل۱۹۰۷صفحہ ۴ اور الحکم مورخہ ۱۰ اپریل۱۹۰۷صفحہ ۲ میں ان الہامات کی تاریخ نزول ۹؍اپریل ۱۹۰۷ء درج ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) ۲۔پھر وہ دونوں پچھلے پاؤں واپس لوٹ گئے اور اس کو جنّت عطا کی گئی۔۳ (ترجمہ) ۴۔اے اللہ کے نبی میں تم کو نہیں پہچانتی تھی۔(بدر مورخہ ۱۶؍فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۲) ۴ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۸ ؍ اپریل۱۹۰۷ءصفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۲ میں یہ الہام یوں مندرج ہے۔’’دہلی میں واصلِ جہنم واصل خان فوت ہوگیا۔‘‘ اوراس کی تشریح میں تحریر ہے کہ ’’حکیم واصل خان دہلی کا تو فوت ہوچکا ہواہے۔تفہیم یہ تھی کہ واصل خان نام ایک شخص کے عزیزوں میں سے کوئی طاعون سے مرجائے گا کیونکہ جہنّم کا لفظ دوسرے الہامات میں بھی طاعون کے لئے استعمال ہوا ہے۔یہ نشان بھی اپنے وقت پر پورا ہوکر ترقی ایمان کا موجب ہوگا۔‘‘ ۵ (ترجمہ از ناشر) ۱۔میری خاطر سختی کر۔۲۔مَیں دعا کرنے والے کی دُعا کو قبول کرتا ہوں۔۶ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۸ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷ ؍ اپریل۱۹۰۷ءصفحہ ۲ میں اس الہام کی تاریخ نزول ۱۴؍اپریل ۱۹۰۷ء درج ہے۔