تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 684 of 1089

تذکرہ — Page 684

۵؍ اپریل۱۹۰۷ء (الف) ’’۱۔حٰـمٓ۔تِلْکَ اٰیَـاتُ الْکِتٰبِ الْمُبِیْنِ۱؎۔۲۔راز کھل گیا۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۹۔بدر جلد ۶ نمبر۱۵ مورخہ۱۱ ؍ اپریل۱۹۰۷ءصفحہ ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر۱۲مورخہ ۱۰ ؍ اپریل۱۹۰۷ءصفحہ۲) (ب) ’’ فَضَّلْنَاکَ عَلٰی مَا سِوَاکَ۔‘‘۲؎ (بدر جلد ۶ نمبر۱۵ مورخہ۱۱ ؍ اپریل۱۹۰۷ء صفحہ ۴۔الحکم جلد ۱۱ نمبر۱۲مورخہ ۱۰ ؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۲) ۶؍اپریل۱۹۰۷ء ’’ اعزاز ‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۵۸) اپریل۱۹۰۷ء ’’بابو۳؎ صاحب کی موت کے بعد مجھ کو یہ الہام ہوا تھا فَتَنَّا بَعْضَھُمْ مِّنْ بَعْضٍ یعنی ہم نے الٰہی بخش کی موت سے اُن کے دوستوں کا امتحان کرنا چاہا ہے کہ کیا وہ اب بھی سمجھتے ہیں یا نہیں۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۶۱) ۷؍ اپریل۱۹۰۷ء (الف) ۱۔’’۱۔وَاللّٰہِ اِنِّیْ غَالِبٌ وَ سَیَظْھَرُ شَوْکَتِیْ۔۲۔وَ کُلٌّ ھَالِکٌ اِلَّا مَنْ قَعَدَ فِیْ سَفِیْنَتِیْ۴؎۔۳۔اعزاز۔۲۔الہام کے الفاظ یاد نہیں رہے اور معنی یہ ہیں کہ فلاں کو پکڑو اور فلاں کو چھوڑ دے۵؎۔۱ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔حٰـمٓ۔یہ کھول کر بیان کرنے والی کتاب کے نشان ہیں۔(نوٹ از ناشر) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس الہام کی تفہیم ہوئی جو بدر مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴ اور الحکم مورخہ ۱۰؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۲ پر ان الفاظ میں مذکور ہے۔’’تفہیم۔وہ جو حٰـمٓ ہے۔اس میں خدا کے نوشتہ کے کئی نشان ہیں جو ظاہر ہونے والے ہیں۔حٰـمٓ مقطعات میں کسی کا نام ہے۔یہی تفہیم ہے۔‘‘ ۲ (ترجمہ) تیرے سوائے جتنے ہیں ان سب پر ہم نے تجھے بزرگی دی۔(بدر مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ۴) ۳ (نوٹ از ناشر) یعنی بابو الٰہی بخش۔حضرت مسیح موعود ؑ نے بابو الٰہی بخش کی موت کی تاریخ حقیقۃ الوحی میں ۷؍اپریل ۱۹۰۷ء تحریر فرمائی ہے۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۴۰ و ۵۴۴) ۴ (ترجمہ) ۱۔بخدا مَیں غالب ہوں اور عنقریب میری شوکت ظاہر ہوجائے گی۔۲۔اور ہر ایک مَرے گا مگر وہی (بچے گا) جو میری کشتی میں بیٹھ گیا۔(بدر مورخہ ۱۱؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۴) ۵ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۱۰ ؍ اپریل۱۹۰۷صفحہ۲ میںتمام الہامات درج ہیں البتہ یہ فقرہ یوں درج ہے۔’’فلاں کو پکڑو۔فلاں کو چھوڑو‘‘