تذکرہ — Page 662
الہام پورا ہوا کہ ’’مَیں دو۱؎ نشان دکھاؤں گا۔‘‘ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۵۱۰ حاشیہ) ۱۰؍ فروری۱۹۰۷ء ’’ ۱۔وَ ۲؎ضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِیْ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ۔وَ۳؎رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ۔۲۔دَ عْنِیْ اَقْتُلْ مَنْ اٰذَاکَ۔۳۔لَکَ رَحْـمَۃٌ۔۴۔یَـرْجُوْ۴؎ خَیْرًا۔۵۔اِنَّ الْعَذَابَ مُرَبَّعٌ وَّ مُدَ وَّ رٌ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۳۱، ۱۳۰، ۱۲۹) ۱۱؍ فروری۱۹۰۷ء ’’۱۔ایک اَور خوشخبری۔۲۔نُثْنِیْ عَلَیْکَ الْـخَیْرَ وَالْبَرَکَۃَ۔۵؎ ۳۔تُرْجٰی اِلَیْہِ خَیْرٌ۔۶؎ ۴۔آسمان ٹوٹ گیا سارا۔کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔۵۔اُولٰٓئِکَ قَوْمٌ لَا یَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ۔‘‘۷؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۲۸، ۱۲۷) ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یہ الہام ۷؍جون ۱۹۰۶ء کو ہوا جس کے الفاظ یہ ہیں۔’’دو۲ نشان ظاہر ہوں گے۔‘‘ (دیکھیے ھٰذا صفحہ ۵۹۵۔الہام ۷؍جون ۱۹۰۶ء) ۲ (ترجمہ از ناشر) ۱۔ہم نے تیرا وہ بوجھ اُتار دیا جس نے تیری کمر توڑ دی تھی۔اور ہم نے تیری خاطر تیرے ذکر کو بلند کیا۔۲۔مجھے چھوڑ تا مَیں اُس شخص کو قتل کروں جو تجھے ایذا دیتا ہے۔۳۔تیرے لئے ایک رحمت ہے۔۴۔وہ بھلائی کی امید رکھتا ہے۔۵۔۔دشمنوں کے لئے عذاب ہر چہار طرف سے ہے اور اِردگرد سے گھیرے ہوئے ہے۔۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں فقرہ ’’۔وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ۔‘‘ درج نہیں مگر یہی الہام بدر مورخہ ۴؍اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ میں دوبارہ شائع ہوا تو اس میں یہ فقرہ درج تھا۔۴ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۷؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں الہام ’’ یَـرْجُوْ خَیْرًا‘‘ کے علاوہ باقی تمام الہامات ترتیب کے اختلاف سے درج ہیں۔۵ (ترجمہ از مرتّب) ۲۔ہم تیرے اس خیر اور برکت کے گُن گاتے ہیں۔۶ (ترجمہ از ناشر) ۳۔خیر اور بھلائی کی امید اُسی سے کی جاتی ہے۔۷ (ترجمہ) ۵۔یہ ایک ایسی قوم ہے کہ ان کا ہم نشین خدا کی رحمت سے محروم نہیں رہ سکتا۔(بدر مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ والحکم مورخہ ۱۷؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱میں ان الہامات کی ترتیب میں اختلاف ہے نیز ان کی تاریخ نزول ۱۲؍فروری ۱۹۰۷ء درج ہے اور تحریر ہے کہ ’’الہام۔آسمان ٹوٹ پڑا سارا۔کچھ معلوم نہیں کیا ہونے والا ہے۔(یہ انسان کا مقولہ ہے گویا اللہ تعالیٰ