تذکرہ — Page 661
۳۔’’ الہام۔زندگی با آرام ہو جانا پہلی زندگی سے۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ الْاَ بْـرَارِ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۳۴، ۱۳۳، ۱۳۲) ۹؍ فروری۱۹۰۷ء (الف) ’’۱۔خدا نے تیرے پر رحم کیا ہے۔۲۔اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلٰی۔۳۔رَحِـمَکَ اللّٰہُ۔۴۔اُمید بھاری۔۵۔ایک مکان سے خیر دُعا ہے۔۲؎ ۶۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الْاَبْرَارِ۔۷۔اَنْتَ مِنَ الْاَبْرَارِ۔۳؎ ۸۔تمام دُنیا کےلئےایک۴؎۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۳۱، ۱۳۰) (ب) ’’۹؍ فروری ۱۹۰۷ء کو مجھے یہ الہام ہوا کہ اِنَّکَ اَنتَ الْاَعْلٰی۔یعنی غلبہ تجھی کو ہوگا اور پھر اسی تاریخ مجھے یہ الہام ہوا۔اَلْعِیْدُ الْاٰخَرُ تَنَالُ مِنْہُ فَتْحًا عَظِیْـمًا۔یعنی ایک اَور خوشی کا نشان تجھ کو ملے گا جس سے ایک بڑی فتح تیری ہوگی۔جس میں یہ تفہیم ہوئی کہ ممالک ِ مشرقیہ میں تو سعداللہ لدھانوی میری پیشگوئی اور مباہلہ کے بعد جنوری کے پہلے ہفتہ میں ہی نمونیا پلیگ سے مَر گیا۔یہ تو پہلا نشان تھا اور دوسرا نشان اس سے بہت ہی بڑا ہوگا جس میں فتحِ عظیم ہوگی۔سو وہ ڈوئی کی موت ہے جو ممالک ِ مغربیہ میں ظہور میں آئی۔دیکھیے پرچہ اخبار بدر ۱۴؍ فروری ۱۹۰۷ء۔اِس سے خدا تعالیٰ کا وہ ۱ (ترجمہ از ناشر) تو مجھ سے بمنزلہ ابرار کے ہے۔۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۰؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں یہ الہامات ترتیب کے اختلاف سے درج ہیں نیز الہام ’’ ایک مکان سے خیر دعا ہے ‘‘ کی بجائے ’’ہر ایک مکان سے خیر دُعا ہے۔‘‘ مندرج ہے۔۳ (ترجمہ) ۲۔بے شک تُو ہی بلند ہے۔۳۔خدا نے تجھ پر رحم کیا ہے۔۶۔بے شک خدا نیکوں کے ساتھ ہے۔۷۔تُو نیکوں میں سے ہے۔( بدر مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۴ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۴؍ اپریل ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ و بدر مورخہ ۱۴ ؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۱۰؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں الہام کے یہی الفاظ ہیں لیکن بدر مورخہ ۱۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ میں یہ الہام اِن الفاظ میں شائع ہوا۔’’تمام دُنیا میں سے ایک۔‘‘ فرمایا۔’’یہ فقرہ اللہ تعالیٰ کے نہایت فضل و احسان اور رحمت کو ظاہر کرتا ہے۔توریت میں ایسا ہی ایک فقرہ حضرت موسیٰ کے متعلق ہے۔‘‘