تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 663 of 1089

تذکرہ — Page 663

۱۴؍ فروری۱۹۰۷ء ’’ مَنْ ذَا الَّذِیْ ھُوَ اَسْعَدُ مِنْکَ۔‘‘۱؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۲۷ ۱۵؍ فروری۱۹۰۷ء ’’ ایک ہفتہ تک ایک بھی باقی نہیں رہے گا۔۲؎ وَیْلٌ لِّکُلِّ ھُمَزَۃٍ لُّمَزَۃٍ۔‘‘ ۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۱۲۷، ۱۲۶۔بدر جلد ۶ نمبر ۸ مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۷مورخہ ۲۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱) ۱۸؍ فروری۱۹۰۷ء (الف) ’’ مَظْھَرُ۴؎ الْـحَقِّ وَالْعُلٰی۵؎ کَاَنَّ اللّٰہَ نَـزَلَ مِنَ السَّمَآءِ۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۱۲۶) بقیہ حاشیہ۔انسان کی طرف سے فرماتا ہے کہ کچھ معلوم نہیں کہ کیا ہونے والا ہے۔) فرمایا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی دہشت ناک آسمانی امر ہے۔اور محاورہ عرب میں آسمان سے مراد وبال بھی ہوتا ہے مگر ہم کسی خاص پہلو پر زور نہیں دے سکتے کہ کیا مراد ہے۔‘‘ ۱ (ترجمہ) وہ کون ہے جو تجھ سے زیادہ سعادت مند ہے۔(بدر مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳ اور الحکم مورخہ ۲۴؍ فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۱ میں بھی یہ الہام مندرج ہے اور وہاں اس الہام کی تاریخ نزول ۱۵؍فروری ۱۹۰۷ء درج ہے۔۲ (نوٹ) حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے فرمایا۔’’ اِس کی تشریح نہیں ہوئی۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ ہفتہ سے مراد کتنی مدّت ہے۔‘‘ (الحکم مورخہ ۱۷ ؍ فروری۱۹۰۷صفحہ ۱) ’’ذکر ہوا کہ ا خبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ طاعون روز بروز ترقّی پکڑتی جاتی ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا۔شاید وہ جو ہمارا الہام ہے’’ ایک ہفتہ تک ایک بھی باقی نہ رہے گا‘‘ یہ خاص اشخاص کے متعلق ہو اور اس کا ظہور اس شکل میں ہو۔کل دہلی سے خط آیا ہے کہ مولوی عبدالمجید دہلوی جو ہمارا سخت معاند تھا یکایک مر گیا۔ایسا ہی ایک اَور بڑے معاند کی مرگِ مفاجات کا ذکر تھا۔‘‘ (الحکم مورخہ۱۰ ؍ مارچ۱۹۰۷صفحہ ۱۵) ۳ (ترجمہ) ہر ایک چغل خور اور عیب گیر پر لعنت ہے۔(بدر مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۴ (ترجمہ) وہ حق اور غلبہ کا مظہر ہوگا۔گویا خدا آسمان سے اُترے گا۔(بدر مورخہ ۲۱؍فروری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳) ۵ حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہِ العزیز نے اِس الہام کی تشریح کے ضمن میں فرمایا۔’’۱۸؍فروری کا الہام مَظْھَرُ الْـحَقِّ وَالْعَلَآءِ وہ الہام ہے جو اس سے پہلے پسر موعود کے متعلق ہوچکا تھا۔جب مَیں نے یہ الہام پڑھا تو میرے ذہن میں آیا کہ یہ پیشگوئی دوبارہ بیان کی گئی ہے اور عجیب بات یہ نظر آئی کہ پہلی پیشگوئی بھی فروری میں کی گئی تھی اور یہ الہام بھی فروری کا ہے۔پس معلوم ہوتا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا یعنی آپ کی وفات سے قریباً سوا سال قبل اللہ تعالیٰ نے پھر اس پیشگوئی کو دُہرادیا تا ایک لمبا عرصہ گزر