تذکرہ — Page 618
وَ وَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ الَّذِیْ اَنْقَضَ ظَھْرَکَ۔وَ قُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ ہم وہ بھار تیرا اُٹھا لیں گے جس نے تیری کمر توڑ دی اور ہم اس قوم کو جڑھ سے کاٹ دیں گے جو ایک حق الامر پر لَا یُؤْمِنُوْنَ۔۱؎ قُلِ اعْـمَلُوْا عَلٰی مَکَانَتِکُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ایمان نہیں لاتے۔ان کو کہہ کہ تم اپنے طور پر اپنی کامیابی کے لئے عمل میں مشغول رہو اور مَیں بھی عمل میں مشغول ہوں پھر دیکھو گے کہ کس کے اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔ھَلْ اَتَـاکَ عمل میں قبولیت پیدا ہوتی ہے۔خدا ان کے ساتھ ہوگا جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور ان کے ساتھ جو نیک کاموں میں مشغول ہیں۔کیا تجھے حَدِیْثُ الزَّلْزَلَۃِ۔اِذَا زُلْزِلَتِ الْاَرْضُ زِلْزَالَھَا۔وَاَخْرَجَتِ الْاَرْضُ آنے والے زلزلہ کی خبر نہیں ملی؟ یاد کر جبکہ سخت طور پر زمین ہلائی جائے گی اور زمین جو کچھ اُس کے اندر ہے باہر اَثْقَالَھَا وَقَالَ الْاِنْسَانُ مَالَھَا یَـوْمَئِذٍ تُـحَدِّ۔۔ثُ اَخْبَارَھَا بِـاَنَّ رَبَّکَ پھینک دیگی اور انسان کہے گا کہ زمین کو کیا ہوگیا کہ یہ غیر معمولی بَلا اس میں پیدا ہوگئی۔اُس دن زمین اپنی باتیں بیان کرے گی کہ کیا اس پر اَوْحٰی لَھَا۔اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُـوْا۔وَ مَا یَـاْتِیْـھِمْ اِلَّا بَغْتَۃً۔گزرا۔خدا اس کے لئے اپنے رسول پر وحی نازل کرے گا کہ یہ مصیبت پیش آئی ہے۔کیا لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ زلزلہ نہیں آئے گا؟ ضرور آئے گا یَسْئَلُوْنَکَ اَحَقٌّ ھُوَ۔قُلْ اِیْ وَ رَبِّیْ اِنَّہٗ لَـحَقٌّ۔وَ لَا یُـرَدُّ عَنْ اور ایسے وقت آئے گا کہ وہ بالکل غفلت میں ہوں گے۔اور ہر ایک اپنے دُنیا کے کام میں مشغول ہوگا کہ زلزلہ ان کو پکڑ لے گا۔تجھ سے پوچھتے ہیں کہ قَـوْمٍ یُّعْرِضُوْنَ۔اَلرَّحٰی یَدُ۔وْرُ وَ یَنْزِلُ الْقَضَآءُ۔لَمْ یَکُنِ الَّذِیْنَ کیا ایسے زلزلہ کا آنا سچ ہے؟ کہہ کہ خدا کی قَسم اِس زلزلہ کا آنا سچ ہے اور خدا سے برگشتہ ہونے والے کسی مقام میں اس سے بچ نہیں سکتے یعنی کوئی مقام کَفَرُوْا مِنْ اَھْلِ الْکِتٰبِ وَ الْمُشْـرِکِیْنَ مُنْفَکِّیْنَ حَتّٰی تَاْتِیَـھُمُ ان کو پناہ نہیں دے سکتا بلکہ اگر گھر کے دروازہ میں بھی کھڑے ہیں تو توفیق نہ پائیں گے جو اس سے باہر ہوجائیں مگر اپنے عمل سے۔ایک چکی گردش میں آئے گی اور قضا الْبَیِّنَۃُ۔اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دُنیا میں اندھیر پڑجاتا۔اُرِیْکَ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔نازل ہوگی۔جو لوگ اہلِ کتاب اور مُشرکوں میں سے حق کے مُنکر ہوگئے وہ بجُز اِس نشانِ عظیم کے باز آنے والے نہ تھے۔اگر خدا ایسا نہ کرتا تو دُنیا میں اندھیر پڑ ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ وقت آتا ہے کہ حق کھل جائے گا اور تمام جھگڑے طے ہوجائیں گے اور یہ فیصلہ آسمانی نشانوں کے ساتھ ہوگا۔زمین بگڑ گئی ہے اب آسمان اس کے ساتھ جنگ کرے گا۔منہ ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۵ حاشیہ)