تذکرہ — Page 617
وَ مَعَ اَھْلِکَ۔لَا تَـخَفْ اِنِّیْ لَا یَـخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ۔اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ اَتٰی۔اور تیرے اہل کے ساتھ۔مت ڈر میرے قُرب میں میرے رسول نہیں ڈرتے۔خدا کا وعدہ آیا وَ رَکَلَ وَرَکٰی فَطُوبٰی لِمَنْ وَّجَدَ وَ رَاٰی۔اُ۔مَمٌ یَّسَّـرْنَا لَھُمُ الْھُدٰی اور زمین پر ایک پاؤں مارا اور خلل کی اصلاح کی۔پس مبارک وہ جس نے پایا اور دیکھا۔بعض نے ہدایت پائی وَ اُ۔مَمٌ حَقَّ عَلَیْھِمُ الْعَذَابُ۔وَ قَالُوْا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ کَفٰی بِا للّٰہِ شَهِيْدًۢا اور بعض مستوجب عذاب ہوگئے۔اور کہیں گے کہ یہ خدا کا فرستادہ نہیں۔کہہ میری سچائی پر خدا گواہی دے بَیْنِیْ وَ بَیْنَکُمْ وَ مَنْ عِنْدَہٗ عِلْمُ الْکِتٰبِ۔یَنْصُـرُکُمُ اللّٰہُ فِیْ وَقْتٍ عَزِیْزٍ۔رہا ہے اور وہ لوگ گواہی دیتے ہیں جو کتاب اللہ کا علم رکھتے ہیں۔خدا ایک عزیز وقت میں تمہاری مدد کرے گا۔حُکْمُ اللّٰہِ الرَّحْـمٰنِ لِـخَلِیفَۃِ اللّٰہِ السُّلْطَانِ۔یُـؤْتٰی لَہُ الْمُلْکُ الْعَظِیْمُ وَ تُفْتَحُ خدائے رحمٰن کا حکم ہے اس کے خلیفہ کے لئے جس کی آسمانی بادشاہت ہے۔اس کو ملک ِ عظیم دیا جائے گا اور خزینے عَلٰی یَدِہِ۱؎ الْخَزَآ۔ئِنُ۔ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ وَ فِیْ اَعْیُنِکُمْ عَـجِیْبٌ۔قُلْ اس کے لئے کھولے جائیں گے۔یہ خدا کا فضل ہے اور تمہاری آنکھوں میں عجیب۔کہہ یَـا اَیُّـھَا الکُفَّارُ اِنِّیْ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ۔فَانْتَظِرُوْا اٰیَـاتِیْ حَتّٰی حِیْنٍ۔سَنُرِیـھِمْ اے مُنکرو! مَیں صادقوں میں سے ہوں۔پس تم میرے نشانوں کا ایک وقت تک انتظار کرو۔ہم عنقریب ان کو اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْ اَنْفُسِھِمْ۔حُـجَّۃٌ قَآئِمَۃٌ وَّ فَتْحٌ مُّبِیْنٌ۔اِنَّ اللّٰہَ اپنے نشان ان کے اردگرد اور ان کی ذاتوں میں دکھائیں گے۔اُس دن حجّت قائم ہوگی اور کھلی کھلی فتح ہوجائے گی۔خدا اُس یَفْصِلُ بَیْنَکُمْ۔اِنَّ اللّٰہَ لَا یَـھْدِیْ مَنْ ھُوَ مُسْـرِفٌ کَذَّابٌ۔دن تم میں فیصلہ کردے گا۔خدا اُس شخص کو کامیاب نہیں کرتا جو حد سے نکلا ہوا اور کذّاب ہے۔اور ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’کسی آئندہ زمانہ کی نسبت یہ پیشگوئی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ میں کشفی رنگ میں کنجیاں دی گئی تھیں مگر ان کنجیوں کا ظہور حضرت عمر فاروقؓ کے ذریعہ سے ہوا۔خدا جب اپنے ہاتھ سے ایک قوم بناتا ہے تو پسند نہیں کرتا کہ ہمیشہ اُن کو لوگ پائوں کے نیچے کچلتے رہیں۔آخر بعض بادشاہ اُن کی جماعت میں داخل ہوجاتے ہیںاور اِس طرح پر وہ ظالموں کے ہاتھ سے نجات پاتے ہیں جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے ہوا۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۹۴ حاشیہ)