تذکرہ — Page 528
۴؍ ستمبر۱۹۰۵ء ’’ مَاکَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَـمُوْتَ اِلَّا بِـاِذْ نِ اللّٰہِ۔‘‘؎۱ ( بدر جلد ۱ نمبر۲۳ مورخہ۷؍ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۲ مورخہ۱۰؍ ستمبر۱۹۰۵ء صفحہ۳) ۷؍ ستمبر۱۹۰۵ء ۱۔’’ ایک کاغذ دکھایا گیا جیساکہ منی آرڈر کا فارم ہوتا ہے اور سامنے اس کے پاس (پندرہ) رکھے ہوئے ہیں۔(اِس کشف کے تھوڑی دیر بعد پندرہ کا ایک منی آرڈر آیا) ۲۔ایک کاغذ دکھائی دیا اس پر لکھا ہوا تھا۔’’آتش فشاں ‘‘ ۳۔پھر ایک کاغذ دکھائی دیا اس پر لکھا تھا۔’’ مَصَالِـحُ الْعَرَبِ۔مَسِیْرُالْعَرَبِ ‘‘؎۲ ۴۔پھر ایک کاغذ دکھائی دیا اس پر لکھا تھا۔’’ بامُراد ‘‘ ۵۔پھر ایک کاغذدکھائی دیا اس پر لکھا تھا۔’’ رَدّ بَلا ‘‘؎۳ (الحکم جلد ۹ نمبر۳۲ مورخہ۱۰؍ ستمبر۱۹۰۵ء صفحہ۳۔بدر جلد ۱ نمبر ۲۳ مورخہ ۷؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲) ۱ (ترجمہ از مرتّب) اِذنِ الٰہی کے بغیر کوئی نفس مَر نہیں سکتا۔۲ (نوٹ از ایڈیٹر الحکم) آج کے الہام مَسِیْرُ الْعَرَبِ کا ذکر تھا۔فرمایا۔اِس کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ ’’عرب میں چلنا‘‘ شاید مقدّرہوکہ ہم عرب؎۴ میں جائیں۔مدّت ہوئی کہ کوئی پچیس چھبیس سال کا عرصہ گزرا ہے ایک دفعہ مَیں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک شخص میرا نام لکھ رہا ہے تو آدھا نام اُس نے عربی میں لکھا ہے اورآدھا انگریزی میں لکھا ہے۔انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے لیکن بعض رؤیا نبی کے اپنے زمانہ میں پورے ہوتے ہیں اور بعض اولاد یا کسی متبع کے ذریعے سےپورے ہوتے ہیں۔مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قیصروکسرٰی کی کنجیاں ملی تھیں تو وہ ممالک حضرت عمرؓ کے زمانہ میں فتح ہوئے۔‘‘ (الحکم مورخہ ۱۰؍ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۳) ۳ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب کا بیان ہے کہ یہ الہام ’’ردّبلا‘‘ ۴؍ ستمبر۱۹۰۵ء کو ہوا۔یعنی جس روز کہ مولانا عبدالکریم صاحب کا بڑا اپریشن کیا گیا۔دیکھیے الحکم مورخہ ۱۰؍ فروری ۱۹۰۶ء صفحہ ۴۔(شمس) ۴ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ پیشگوئی حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ پوری ہوئی چنانچہ حضور دو دفعہ عرب میں تشریف لے گئے۔پہلے تو ۱۹۱۲ء میں حج ِ بَیت اللہ شریف کی غرض سے مکّہ معظمہ اورمدینہ منورہ اورجدّہ کا سفر کیا اور دوسری دفعہ ۱۹۲۴ء میں حضور بَیت المقدس اوردمشق تشریف لے گئے۔