تذکرہ — Page 527
۲؍ستمبر۱۹۰۵ء (الف) ’’ سینتالیس؎۱ سال کی عمر۔اِنَّـا لِلّٰہِ وَ اِنَّـا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔( اس سے دوسرے دن ۳؍ ستمبر ۱۹۰۵ء کو ایک شخص کا خط آیا جس نے اپنی بدکاریوں اور غفلتوں پر نہایت افسوس کی تحریر کرکے لکھا۔اب میری عمر سینتالیس سال کی ہے۔اِنَّـا لِلّٰہِ وَ اِنَّـا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔فرمایا۔کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ جو خط باہر سے آنے والا ہوتا ہے اس کے مضمون سے پہلے ہی سے اطلاع دی جاتی ہے۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۲۳ مورخہ۷؍ ستمبر ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۳۲ مورخہ۱۰؍ ستمبر۱۹۰۵ء صفحہ۳) (ب) ’’اس نے اچھا ہونا ہی نہیں تھا۔‘‘؎۲ (تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۴۵۸) (ج) ’’ تُـؤْثِـرُوْنَ الْـحَیٰوۃَ الدُّ نْیَا وَ فِیْ الدِّ یْنِ تُقْصِـرُوْنَ۔‘‘ ؎۳ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۴۶ ) بقیہ حاشیہ۔کا وقوع متاخر کیا جانا مراد ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں’’آج (۲۷ مارچ ۱۹۰۶ء) زلزلہ کے وقت کے لئے توجہ کی گئی تھی کہ کب آوے گا۔اسی توجہ کی حالت میں زلزلہ کی صورت آنکھوں کے آگے آگئی اور پھر الہام ہوا رَبِّ اَخِّرْ وَقْتَ ھَذَا (الہام۲۷؍ مارچ ۱۹۰۶ء ) خاکسار مرتّب عرض کرتا ہے کہ یہ الہامی دعا اس دوسرے الہام کے مترداف ہے کہ رَبِّ لَا تُرِنِیْ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ۔لَا تُرِنِیْ مَوْتَ اَحَدٍ مِّنْـھُمْ اور اللہ تعالیٰ نے یہ دعا قبول بھی فرمالی۔اَخَّرَہُ اللّٰہُ اِلٰی وَقْتٍ مُّسَمًّی (الہام ۲۸؍ مارچ ۱۹۰۶ء) اور پہلی الہامی دعا یوں قبول ہوئی کہ جب ۸، ۹ ؍ اپریل ۱۹۰۶ء کو پھر رَبِّ اَرِنِیْ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ کا الہام ہوا تو اللہ تعالیٰ نے آپ ؑکو ایک زلزلہ کا نظارہ دکھادیا اور اس کے ساتھ ہی الہام ہوا لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ۔لِلّٰہِ الْوَاحِدِ الْقَھَّارِ (الہام ۱۱؍ جون ۱۹۰۶ء) اِس الہام کی ہیبت محتاجِ بیان نہیں۔۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعد میں واقعات نے بتادیا کہ اِس الہام میں مولانا عبدالکریم صاحبؓ کی جو اس وقت کار بنکل سے بیمار تھے، وفات کی خبر دی گئی تھی کیونکہ وفات کے وقت اُن کی عمر سینتالیس سال کی تھی۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) حضرت مولانا عبدالکریم صاحبؓ چونکہ سلسلہ عالیہ احمدیہ کے ایک نہایت ہی مخلص بزرگ تھے جن کی وفات پر طبعاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور جماعت کو سخت صدمہ ہونے والا تھا اِس لئے اللہ تعالیٰ نے اِس الہام کے ذریعہ سے ہوشیار کردیا۔۳ (ترجمہ از مرتّب) تم دُنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو اور دین میں کوتاہی کرتے ہو۔(نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) بدر مورخہ ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ میں ’’وَ فِی الدِّیْنِ تُقْصِـرُوْنَ‘‘ کا فقرہ نہیں ہے۔