تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 521 of 1089

تذکرہ — Page 521

۲۰؍ جون۱۹۰۵ء ’’۱۔عَـجِّلْ۔عَـجِّلْ ۲۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ عَرْشِیْ۔۳۔اَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃٍ لَّا یَعْلَمُھَا الْـخَلْقُ۔۴۔صَلٰوۃُ الْعَرْشِ اِلَی الْفَرْشِ۔۵۔اَنْتَ مِنِّیْ وَ اَنَـا مِنْکَ۔‘‘؎۱ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۴۵) ۲۶؍ جون۱۹۰۵ء ’’اِنِّیْ مَعَ الرَّحْـمٰنِ فِیْ کُلِّ حَالَۃٍ۔حَالَۃِ الْمَوْتِ وَحَالَۃِ الْبَقَآءِ۔‘‘؎۲ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۴۵) ۲؍ جولائی۱۹۰۵ء ’’رؤیا۔دیکھا کہ ایک بڑا دریا ہے۔اُس میں سے کوئی چیز نکلی جس میں سے شعلے نکلتے ہیں اور ہمارے سامنے ہوئی جیسا کہ دریا بطور تحفہ کے کوئی چیز ہمارے آگے پیش کش کرتا ہے۔وہ چیز ہم نے لے لی۔تو وہ ایک ٹوپی تھی جس کو ہم نے سر پر رکھ لیا۔اُس کے بعد دریا نے ایک اَور چیز پیش کی جو ایک چغہ کی شکل میں تھی۔وہ بھی ہم نے لے لی۔فرمایا۔دریا سے مراد کوئی بڑا بادشاہ یا اسی کی مانند کوئی اَور ذی شان آدمی یا کوئی بڑا اہلِ علم و فضل و کمال ہوتا ہے اور اُس کے تحفہ دینے سے مراد حلقہ خادموں میں داخل ہونا یا مُعتقد ہونا یا مالی خدمت کرنا۔یا کسی غرض کے لئے رجوع لانا ہے۔وَاللہُ تَعَالٰی اَعْلَمُ۔‘‘ ( بدر جلد ۱ نمبر۱۳ مورخہ۲۹؍ جون ۱۹۰۵ء صفحہ۲۔الحکم جلد ۹ نمبر۲۴ مورخہ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ۱۱) ۳؍جولائی ۱۹۰۵ء ’’تیرے لئے میرا نام چمکا اسی دن دیکھا ایک لفافہ میں سے کئی پیسے نکلے ہیں پھر دیکھا کہ پیسے میرے آگے رکھے ہیں۔‘‘ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۴۵) ۱۳؍۳؎جولائی ۱۹۰۵ء ’’روحانی عالم تیرے پر کھولا گیا۔فَبَصَـرُکَ الْیَوْمَ حَدِ یْدٌ۔۴؎ ۱ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔جلدی کر۔جلدی کر۔۲۔تُو مجھ سے بمنزلہ میرے عرش کے ہے۔۳۔تُو مجھ سے اس مرتبہ پر ہے جس کو دنیا نہیں جانتی۔۴۔رحمت ِ الٰہی عرش سے فرش تک ہے۔۵۔تُو مجھ سے ہے اور مَیں تجھ سے ہوں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) مَیں ہر حالت میں رحمٰن خدا کے ساتھ ہوں خواہ موت کی حالت ہو خواہ بقاء کی۔۳ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۳؍جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ میں ان الہامات کی تاریخ ۱۲؍جولائی ۱۹۰۵ء مندرج ہے۔نیز ’’روحانی عالم تیرے پر کھولا گیا‘‘ کی بجائے ’’روحانی عالم کا دروازہ تیرے پر کھولا گیا۔‘‘ مرقوم ہے۔۴ (ترجمہ از مرتّب) پس آج تیری نگاہ تیز ہے۔