تذکرہ — Page 520
دیکھا کہ باہر ایک عورت۱؎ زمین پر بیٹھی ہے جو مخالفانہ رنگ میں ہے۔وہ بہت بُری حالت میں ہے اور اُس کے سر کے بال مقراض سے کٹے ہوئے ہیں۔کوئی زیور نہیں اور نہایت ردّی اور مکروہ حالت میں ہے اور اُس کے سر پر ایک مَیلا سا کپڑا پگڑی کی طرح لپیٹا ہوا ہے۔اُس کے ساتھ بات کرنے سے مجھے کراہت آتی ہے۔نمازِ عصر کا وقت ہے مَیں جلدی سے اُٹھا ہوں کہ نماز کیلئے چلا جاؤں۔کچھ کپڑے مَیں نے ساتھ لئے ہیں کہ نیچے جا کر پہن لُوں گا۔یہ جلدی اِس لئے کی کہ اس عورت کو میرے ساتھ بات کرنے کا موقعہ نہ ملے۔پس مَیں نے جلدی کے سبب پگڑی کو ہاتھ میں لیا اور پشمینہ کی سُرخ چادر اُوپر لے لی اور کمرے سے نکلا۔جب مَیں اس کے برابر گذرا تو میرے منہ سے یا آسمان سے آواز آئی کہ لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔ساتھ ہی یہ الہام ہوا کہ اس پر آفت پڑی، آفت پڑی اور دیکھا کہ وہ عورت ایک نہایت ذلیل شکل میں کوڑھیوں کی طرح بیٹھی ہے۔‘‘ (بدر جلد ۱ نمبر ۱۰ مورخہ ۸؍جون ۱۹۰۵ء صفحہ ۷۔الحکم جلد ۹ نمبر ۲۲ مورخہ ۲۴؍ جون ۱۹۰۵ء صفحہ ۲) ۱۹؍ جون۱۹۰۵ء ۱۔’’خواب میں کسی کی نسبت اپنے دوستوں میں سے الہام ہوا۔اس کو اچھا کرنا ہی نہیں۲؎ تھا۔بے نیازی کے کام ہیں۔اعجاز المسیح یعنی اُس شخص کی تقدیر میں شفا نہیں تھی۔خدا تعالیٰ کی بے نیازی نے ایسا ہی چاہا تھا پر یہ معجزہ مسیح ہے کہ وہ اچھا ہوگیا۔‘‘ ۲۔’’ یُنَجِّی النَّاسَ مِنَ الْاَمْرَاضِ۔‘‘۳؎ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۴۵ ۱ (نوٹ از ایڈیٹر الحکم) ’’یہ وہی عورت معلوم ہوتی ہے جس کے متعلق اسی اخبار میں درج ہوا تھا کہ میں ان کو سزا دوں گا۔مَیں اس عورت کو سزا دوں گا۔‘‘ (الحکم مورخہ ۲۴؍ جون ۱۹۰۵ء صفحہ ۲) ۲ (نوٹ از ناشر) بدر مورخہ ۱۵؍جون ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ اور الحکم مورخہ ۲۴؍جون ۱۹۰۵ء صفحہ ۲ میں اس الہام کے بارہ میں تحریر ہے کہ ’’ ہماری جماعت کے چار آدمیوں میں سے جو سخت بیمار ہوئے تھے اس جگہ باغ میں ان میں سے ایک۴؎ کے متعلق یہ الہام ہوا۔خدا نے اس کو اچھا کرنا ہی نہیں تھا۔بے نیازی کے کام ہیں۔اعجاز المسیح۔‘‘ ۳ (ترجمہ) (وہ) امراض سے لوگوں کو نجات دیتا ہے اور دے گا۔(بدر مورخہ یکم جون ۱۹۰۵ء صفحہ ۲) ۴ چار بیماروں میں سے ایک میاں محمد اسحاق صاحبزادہ جناب میر ناصر نواب صاحب تھے جن کی مرض کی حالت ظاہری نظر میں واقعی مایوسی کی حد تک پہنچ چکی تھی۔(ریویو آف ریلیجنز بابت ماہ جولائی ۱۹۰۵ء صفحہ ۲۹۰)