تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 453 of 1089

تذکرہ — Page 453

۲۳؍ ستمبر۱۹۰۳ء ’’حضرت اقدس ؑ نے صبح کو اُٹھ کر ذیل کا رؤیا سنایا۔مَیں نے ایک قلم لکھنے کے واسطے اُٹھائی ہے۔دیکھنے سے معلوم ہوا کہ اس کی زبان ٹوٹی ہوئی ہے۔تو مَیں نے کہا کہ محمد افضل نے جو پَر (نِب) بھیجے ہیں اُن میں (سے) ایک لگادو۔وہ پَر تلاش کئے جارہے ہیں کہ اس اثنائے میں میری آنکھ کُھل گئی… فرمایا کہ کوئی دنیا کا کاروبار چھوڑ کر ہمارے پاس بیٹھے تو ایک دریا پیشگوئیوں کا بہتا ہوا دیکھے جیسے کہ کل کی قلم والی پیشگوئی پوری ؎۱ہوئی ہے۔‘‘ (البدر جلد۲ نمبر۳۷ مورخہ۲؍اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ۳۹۰) ۲۳؍ ستمبر۱۹۰۳ء ’’خوش و خورم باش‘‘؎۲ (البدر جلد۲ نمبر۳۷ مورخہ۲ ؍اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ۳۹۰) ۱۹۰۳ء ’’ ایک وحی میں خدا تعالیٰ نے مجھ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا۔یَـا اَحْـمَدُ جُعِلْتَ مُرْسَلًا اے احمد تُو مرسل بنایا گیا۔یعنی جیسے کہ تُو بروزی رنگ میں احـمد کے نام کا مستحق ہوا حالانکہ تیرا نام غلام احـمدتھا۔سو اسی طرح بروز کے رنگ میں نبی کے نام کا مستحق ہے کیونکہ احـمد نبی ہے نبوت اس سے مُنفک نہیں ہوسکتی۔‘‘ (تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ۴۵، ۴۶) ۱ (نوٹ از ایڈیٹر البدر) ’’ ۱۰بجے کے بعد مقدّمہ کرم دین صاحب بنام حضرت اقدس و حکیم فضل دین صاحب پیش ہوا۔خوا جہ صاحب نے حکیم فضل دین صاحب کی طرف سے درخواست پیش کی کہ مولوی کرم دین صاحب نے جو استغاثہ کیا ہے وہ وہی امر ہے جس کی تحقیق کے لئے خود میری طرف سے کرم دین صاحب پر استغاثہ دائر ہوئے ہیں اِس لئے جب تک وہ مقدمات فیصل نہ ہوں اس وقت تک اس مقدّمہ کو ملتوی کیا جاوے۔اس پر فریقین کے وکلاء کی بحث رہی اور عدالت نے دوسرے دن فیصلہ دینے کا حکم صادر فرمایا۔شام کے وقت حضرت اقدس ؑ کو الہام ہوا۔خوش و خورم باش۔۲۴؍ کو مقدمہ شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم بنام مولوی کرم دین صاحب و ایڈیٹر سراج الاخبار جہلم تھا مگر چونکہ مستغیث کی شہادت موجود نہ تھی اِس لئے اس کی تاریخ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۰۳ء پڑی۔کل کی بحث پر چونکہ ابھی عدالت نے فیصلہ تحریر نہیں کیا تھا اِس لئے خواجہ صاحب نے کچھ اَور قانونی بحث کرنی چاہی جس کو سن کر عدالت نے ایک بجے کے بعد اسی دن یہ فیصلہ دیا کہ درخواست التواء ِ مقدمہ نامنظور ہے اور اِس طرح سے خدا کی وہ بات پوری ہوئی جو کہ اس نے ۲۲؍ کی رات کو اپنے فرستادہ کو دکھائی اور ۲۳؍ کی صبح کو اُس نے سنائی۔‘‘ (البدر مورخہ۲ ؍اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحہ۳۹۰) ۲ (ترجمہ از مرتّب) خوش و خرم ہو۔(نوٹ از مرتّب) یہ الہام مقدّمہ کرم دین کے دوران میں ہوا۔