تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 454 of 1089

تذکرہ — Page 454

۱۹۰۳ء ’’طاعون کے دنوں میں جبکہ قادیان میں طاعون زور پر تھا۔میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا اور ایک سخت تپ محرقہ کے رنگ میں چڑھا جس سے لڑکا بالکل بیہوش ہوگیا اور بیہوشی میں دونوں ہاتھ مارتا تھا۔مجھے خیال آیا کہ اگرچہ انسان کو موت سے گریز نہیں مگر اگر لڑکا اِن دنوں میں جو طاعون کا زور ہے فوت ہوگیا تو تمام دشمن اس تپ کو طاعون ٹھیرائیں گے اور خدا تعالیٰ کی اُس پاک وحی کی تکذیب کریں گے کہ جو اُس نے فرمایا ہے اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ یعنی مَیں ہر ایک کو جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہے طاعون سے بچاؤں گا۔اِس خیال سے میرے دل پر وہ صدمہ وارد ہوا کہ مَیں بیان نہیں کرسکتا۔قریباً رات کے بارہ بجے کا وقت تھا کہ جب لڑکے کی حالت اَبتر ہوگئی اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ یہ معمولی تپ نہیں یہ اَور ہی بَلا ہے۔تب مَیں کیا بیان کروں کہ میرے دل کی کیا حالت تھی کہ خدانخواستہ اگر لڑکا فوت ہوگیا تو ظالم طبع لوگوں کو حق پوشی کے لئے بہت کچھ سامان ہاتھ آجائے گا۔اسی حالت میں مَیں نے وضو کیا اور نماز کے لئے کھڑا ہوگیا اور معاً کھڑا ہونے کے ساتھ ہی مجھے وہ حالت میسر آگئی جو استجابت ِ دعا کے لئے ایک کھلی کھلی نشانی ہے اور مَیں اُس خدا کی قسم کھاکر کہتا ہوں جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ ابھی مَیں شاید تین رکعت پڑھ چکا تھا کہ میرے پر کشفی حالت طاری ہوگئی اور مَیں نے کشفی نظر سے دیکھا کہ لڑکا بالکل تندرست ہے۔تب وہ کشفی حالت جاتی رہی اور مَیں نے دیکھا کہ لڑکا ہوش کے ساتھ چارپائی پر بیٹھا ہے اور پانی مانگتا ہے اور مَیں چار رکعت پوری کر چکا تھا۔فی الفور اُس کو پانی دیا اور بدن پر ہاتھ لگا کر دیکھا کہ تپ کا نام و نشان نہیں اور ہذیان اور بیتا بی اور بیہوشی بالکل دُور ہوچکی تھی اور لڑکے کی حالت بالکل تندرستی کی تھی۔مجھے اُس خدا کی قدرت کے نظارہ نے الٰہی طاقتوں اور دُعا قبول ہونے پر ایک تازہ ایمان بخشا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۸۷، ۸۸ حاشیہ) ۱۹۰۳ء فرمایا۔’’چند سا ل؎۱ہوئے ایک دفعہ ہم نے عالمِ کشف میں اسی لڑکے شریف احمد کے متعلق کہا تھا کہ اَب تُو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں۔‘‘ (بدر جلد ۶ نمبر ۱، ۲ مورخہ ۱۰ ؍جنوری ۱۹۰۷ء صفحہ ۳۔الحکم جلد ۱۱ نمبر ۱ مورخہ ۱۰ جنوری ۱۹۰۷ صفحہ ۱) ۱ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) چونکہ سال کی تعیین نہیں ہوسکی اِس لئے پہلے کشف کی مناسبت سے اِسے یہاں درج کیا گیا۔