تذکرہ — Page 423
۱۶؍ ۱؎جنوری ۱۹۰۳ء ’’سفر میں الہام۔اُرِیْکَ۲؎ بَـرَکَاتٍ مِّنْ کُلِّ طَرَفٍ۔‘‘ ؎۳ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲) ۱۹؍جنوری ۱۹۰۳ء ’’ بوقت واپسی؎۴ ۱۹؍جنوری ۱۹۰۳ء۔۱۔اٰثَـرَکَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ۔۲۔غَـاسِــقُ اللّٰہِ۔‘‘؎۵ اس سے پہلا الہام ’’۳۔اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْکَ۔۴۔اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ۔۵۔یَـا جِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَ الطَّیْرَ۔‘‘؎۶ (کاپی الہامات حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ۲، ۳) ۱ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ اور البدر مورخہ ۲۳؍ و ۳۰؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷ و ۹میں یہ الہام درج ہے نیز البدر صفحہ ۷ میں تحریر ہے کہ مورخہ ۱۵؍جنوری ۱۹۰۳ء کو لاہور میں کثرت سے بار بار یہ الہام ہوا۔۲ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوئی۷؎ کہ جب مَیں جہلم کے قریب پہنچا۔تو تخمیناً دس ہزار سے زیادہ آدمی ہوگا کہ وہ میری ملاقات کے لئے آیا اور تمام سڑک پر آدمی تھے اور ایسے انکسار کی حالت میں تھے کہ گویا سجدے کرتے تھے اور پھر ضلع کی کچہری کے اردگرد اس قدر لوگوں کا ہجوم تھا کہ حکام حیرت میں پڑگئے۔گیارہ۱۱۰۰ سو آدمیوں نے بیعت کی اور قریباً دوسو کے عورت بیعت کرکے اس سلسلہ میں داخل ہوئی اور کرم دین کا مقدمہ جو میرے پر تھا خارج کیا گیا اور بہت سے لوگوں نے ارادت اور انکسار سے نذرانے دیئے اور تحفے پیش کئے اور اِس طرح ہرایک طرف سے برکتوں سے مالامال ہوکر قادیان میں واپس آئے اور خدا تعالیٰ نے نہایت صفائی سے وہ پیشگوئی پُوری کی۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۲۶۴) ۳ (ترجمہ) یعنی مَیں ہر ایک جانب سے تجھے اپنی برکتیں دکھاؤں گا۔‘‘ ( البدر مورخہ ۲۳،۳۰؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹) ۴ (نوٹ از ناشر) جہلم سے واپسی پر یہ الہام ہوا۔الحکم مورخہ ۳۱؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۱۵ اور البدر مورخہ ۲۳، ۳۰؍جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷ میں اس کی تاریخ ۱۸؍ جنوری ۱۹۰۳ء درج ہے۔۵ (ترجمہ از مرتّب) ۱اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز پر تجھے ترجیح دی۔۲۔وہ قمر جس کو خسوف لگے گا۔۶ (ترجمہ از مرتّب) ۳۔مَیں فوجوں کے ساتھ تیرے پاس آؤں گا۔۴۔کیا اللہ اپنے بندے کے لئے کافی نہیں۔۵۔اے پہاڑو! اِس کے ساتھ خدا تعالیٰ کے حضور جھک جاؤ اور اے پرندو! تم بھی۔۷ نیز تحریر فرمایا۔’’راستہ میں لاہور سے آگے گوجرانوالہ اور وزیر آباد اور گجرات وغیرہ اسٹیشنوں پر اس قدر لوگ ملاقات کے لئے آئے کہ اسٹیشنوں پر انتظام رکھنا مشکل ہوگیا۔ٹکٹ پلیٹ فارم ختم ہونے کی وجہ سے لوگ بلا ٹکٹ پلیٹ فارم پر چلے گئے اور بعض مقامات پر گاڑی کو کثرت ہجوم کی وجہ سے زیادہ دیر تک ٹھہرایا گیا اور نہایت نرمی سے زائروں کو ملازمین ریل نے گاڑی سے علیحدہ کیا۔بعض جگہ کچھ دُور تک لوگ گاڑی کو پکڑے ہوئے ساتھ چلے گئے۔خوف تھا کہ کوئی آدمی نہ مرجائے۔ان واقعات کو مخالف اخباروں نے بھی مثل ’’پنجۂ فولاد‘‘ کے شائع کیا تھا۔منہ‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۲۶۴ حاشیہ)