تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 413 of 1089

تذکرہ — Page 413

۲۲؍ نومبر۱۹۰۲ء ’’اسی رات میں ایک الہام ہوا۔بوقت ۳ بجے ۲ منٹ اُوپر اور وہ یہ ہے۔مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ نَبْتَلِیْہِ بِذُ رِّیَّۃٍ فَاسِقَۃٍ مُلْـحِدَ ۃٍ یَّـمِیْلُوْنَ اِلَی الدُّنْیَا وَ لَا یَعْبُدُ۔ونَنِیْ شَیْئًا۔جو شخص قرآن سے کنارہ کرے گا ہم اُس کو ایک خبیث اولاد کے ساتھ مبتلا کریں گے جن کی ملحدانہ زندگی ہوگی۔وہ دنیا پر گریں گے اور میری پرستش سے ان کو کچھ بھی حصّہ نہ ہوگا یعنی ایسی اولاد کا انجام بد ہوگا اور توبہ اور تقویٰ نصیب نہیں ہوگا۔‘‘ (ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۲۱۳ حاشیہ) ۵؍ دسمبر۱۹۰۲ء (الف) ’’ جمعہ کے دن جب مَیں بیمار تھا تو مجھے یہ الہام ہوا تھا۔یَـمُوْتُ قَبْلَ یَــوْمِیْ ھٰذَا یعنی یہ میرے اس دن سے پیشتر مرے گا۔یومؔ سے مراد جمعہ کا دن ہے جو کہ اصل میں خدا کا دن ہے۔‘‘ (البدر جلد۱نمبر۷مورخہ ۱۲؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۵۵) (ب) ’’ مولوی رسل بابا امرتسری… طاعون سے پکڑا گیا اور اُس کے عین طاعون کے دنوں میں جمعہ کے روز مجھ کو الہام ہوا کہ یَـمُوْتُ قَبْلَ یَــوْمِیْ ھٰذَا یعنی آئندہ جمعہ سے پہلے مرجائے گا چنانچہ وہ آئندہ جمعہ سے پہلے ۸؍دسمبر ۱۹۰۲ء کو ڑ۵ بجے صبح کے اس جہان فانی سے رخصت ہوا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۱۲،۳۱۳) ۶ ؍دسمبر۱۹۰۲ء (الف) ’’رات کو میری ایسی حالت تھی کہ اگر خدا کی وحی نہ ہوتی تو میرے اِس خیال میں کوئی شک نہ تھا کہ میرا آخری وقت ہے۔اسی حالت میں میری آنکھ لگ گئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ پر مَیں ہوں اور وہ کوچہ سربستہ سا معلوم ہوتا ہے کہ۳ بھینسے؎۱ آئے ہیں۔ایک اُن میں سے میری طرف آیا تو مَیں نے اُسے مار کر ہٹا دیا پھر دوسرا آیا تو اُسے بھی ہٹادیا۔پھر تیسرا آیا اور وہ ایسا پُرزور معلوم ہوتا تھا کہ مَیں نے خیال کیا ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ اس واقعہ کے دیکھنے کے ساتھ ہی مجھ کو تفہیم ہوئی کہ کوئی دشمن مقدمہ برپا کرے گا اور اس کے تین وکیل ہوں گے… بعد میں کرم دین نے جہلم میں میرے پر مقدمہ کیا اور میری طلبی ہوئی اور وہ مقدمہ فوجداری اور سخت مقدمہ تھا اور جیسا کہ کشفی حالت میں ظاہر کیا گیا تین وکیل اُس کے تھے۔آخر بموجب وعدۂ الٰہی وہ مقدمہ اس کا خارج ہوا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۹۵)