تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 414 of 1089

تذکرہ — Page 414

کہ اَب اس سے مَفر نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی قدرت کہ مجھے اندیشہ ہوا تو اُس نے اپنا منہ ایک طرف پھیر لیا۔مَیں نے اُس وقت یہ غنیمت سمجھا کہ اُس کے ساتھ رگڑ کر نکل جاؤں۔مَیں وہاں سے بھاگا اور بھاگتے ہوئے خیال آیا کہ وہ بھی میرے پیچھے بھاگے گا مگر مَیں نے پھر کر نہ دیکھا۔اُس وقت خواب میں خدا تعالیٰ کی طرف سے میرے دل پر مندرجہ ذیل دعا القا کی گئی۔رَبِّ کُلُّ شَیْءٍخَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَ انْصُـرْنِیْ وَ ارْحَـمْنِیْ ؎۱ اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ اسمِ اعظم ہے اور یہ وہ کلمات ہیں کہ جو اسے پڑھے گا ہر ایک آفت سے اُسے نجات ہوگی۔(البدر۲؎ جلد ۱نمبر۷ مورخہ۱۲؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۵۴) (ب) ’’وَ مِنْ اٰیَـاتِیْ مَا اَنْـبَأَنِیَ الْعَلِیْمُ الْـحَکِیْمُ۔فِیْ اَمْرِ رَجُلٍ لَئِیْمٍ وَ بُـھْتَانِہِ الْعَظِیْمِ۔وَاَوْحٰی اِلَـیَّ اَنَّہٗ یُرِیْدُ اَنْ یَّـتَـخَطَّفَ عِرْضَکَ۔ثُمَّ یَـجْعَلُ نَفْسَہٗ غَـرَضَکَ وَ اَرَانیْ فِیْہِ رُؤْیَـا ثَلٰثَ مَرَّاتٍ۔وَ اَرَانِیْ اَنَّ الْعَدُوَّ اَعَدَّ لِذَالِکَ ثَلٰثَۃَ حُـمَاۃٍ لِّتَوْھِیْنٍ وَّ اِعْنَاتٍ۔وَ رَأَیْتُ کَاَنِّیْ اُحْضِـرْتُ مُـحَاکَمَۃً کَالْمَاْخُوْذِیْـنَ۔وَ رَأَیْتُ اَنَّ اٰخِرَ اَمْرِیْ نَـجَاۃٌ بِفَضْلِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ وَ لَوْ بَعْدَ حِیْنٍ۔وَبُشِّـرْتُ اَنَّ الْبَلَآءَ یُـرَدُّ عَلٰی عَدُوِّی الْکَذَّابِ الْمُھِیْنِ…… ثُمَّ قَعَدْ تُّ کَالْمُنْتَظِرِیْنَ۔وَ مَا مَرَّ عَلٰی مَا رَأَیْتُ اِلَّا سَنَۃٌ فَاِذَا ظَھَرَ قَدَ رُاللّٰہِ عَلٰی یَدِ عَدُ وٍّ مُّبِیْنِ اسْـمُہٗ کَــرَمُ الدِّ یْنِ۔‘‘ (مواہب الرحمٰن۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۳۵۰) ترجمہ۔’’اور منجملہ میرے نشانوں کے ایک یہ ہے کہ جو خدائے علیم و حکیم نے ایک لئیم شخص کی نسبت اور اس کے بہتانِ عظیم کی نسبت مجھے خبردی اور مجھے اپنی وحی سے اطلاع دی کہ یہ شخص میری عزّت دُور کرنے کے لئے حملہ کرے گا اور انجام کار میرا نشانہ آپ بن جائے گا۔اور خدا نے تین خوابوں میں یہ حقیقت میرے پر ظاہر ۱ (ترجمہ) اے میرے ربّ! ہر شےتیری خادم ہے۔اے میرے ربّ! میری حفاظت کر اور میری نصرت کر اور مجھ پر رحم کر۔’’فرمایا۔یہ دعا ایک حِرز اور تعویذ ہے۔اور میرے دل میں اس وقت یہ بات پڑتی تھی کہ یہی اسم اعظم ہے۔فرمایا کہ مَیں اس دعا کو اب التزاماً ہر نماز میں پڑھاکروں گا۔آپ بھی پڑھا کریں۔فرمایا۔اس میں بڑی بات جو سچی توحید سکھاتی یعنی اللہ جلّشانہٗ کو ہی ضَارّ اور نَـافِع یقین دلاتی ہے یہ ہے کہ اس میں سکھایا گیا ہے کہ ہر شے تیری خادم ہے یعنی کوئی موذی اور مضر شے تیرے ارادے اور اِذن کے بغیر کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتی۔‘‘ (الحکم مورخہ ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۰) ۲ (نوٹ از ناشر) الحکم مورخہ۱۰؍دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۰ میں بھی یہی خواب باختلاف الفاظ درج ہے۔