تذکرہ — Page 412
۲۱؍ نومبر۱۹۰۲ء ’’ مَیں جب اشتہار؎۱ کو ختم کرچکا۔شاید دو تین سطریں باقی تھیں تو خواب نے میرے پر زور کیا یہاں تک کہ مَیں بمجبوری کاغذ کو ہاتھ سے چھوڑ کر سو گیا۔تو خواب میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی نظر کے سامنے آگئے۔مَیں نے ان دونو کو مخاطب کرکے یہ کہا۔خُسِفَ الْقَـمَرُ وَ الشَّمْسُ فِیْ رَمَضَانَ۔فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّ۔بَـانِ۔یعنی چاند اور سورج کو تو رمضان میں گرہن لگ چکا۔پس تم اے دونوں صاحبو! کیوں خدا کی نعمت کی تکذیب کر رہے ہو ؟ پھر مَیں خواب میں اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کو کہتا ہوں کہ اٰلَآءِ سے مُراد اِس جگہ مَیں ہوں اور پھر مَیں نے ایک دالان کی طرف نظر اُٹھا کر دیکھا کہ اس میں چراغ روشن ہے۔گویا رات کا وقت ہے اور اُسی الہام مندرجہ بالا کو چند آدمی چراغ کے سامنے قرآن شریف کھول کر اس سے یہ دونوں فقرے نقل کررہے ہیں۔گویا اسی ترتیب سے قرآن شریف میں موجود ہے اور ان میں سے ایک شخص کو مَیں نے شناخت کیا کہ میاں نبی بخش صاحب رفو گر امرت سری ہیں۔‘‘ (ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی۔روحانی خزائن جلد۱۹صفحہ ۲۰۹حاشیہ) ۲۲؍ نومبر۱۹۰۲ء ’’ آج رات مجھےرؤیامیں دکھایا گیا کہ ایک درخت باردار اور نہایت لطیف اور خوبصورت پھلوں سے لدا ہوا ہے اور کچھ جماعت تکلّف اور زور سے ایک بُوٹی کو اُس پر چڑھانا چاہتی ہے جس کی جڑ نہیں بلکہ چڑھا رکھی ہے۔وہ بُوٹی افتیمون کی مانند ہے اور جیسے جیسے وہ بُوٹی اس درخت پر چڑھتی ہے اس کے پھلوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور اس لطیف درخت میں ایک کھجواہٹ اور بد شکلی پیدا ہورہی ہے اورجن پھلوں کی اس درخت سے توقع کی جاتی ہے اُن کے ضائع ہونے کا سخت اندیشہ ہے بلکہ کچھ ضائع ہوچکے ہیں۔تب میرا دل اس بات کو دیکھ کر گھبرایا اور پگھل گیا اور مَیں نے ایک شخص کو جو ایک نیک اور پاک انسان کی صورت پر کھڑا تھا ، پُوچھا کہ یہ درخت کیا ہے اور یہ بُوٹی کیسی ہے جس نے ایسے لطیف درخت کو شکنجہ میں دبا رکھا ہے۔تب اُس نے جواب میں مجھے یہ کہا کہ یہ درخت قرآن خدا کا کلام ہے اور یہ بُوٹی وہ احادیث اور اقوال وغیرہ ہیں جو قرآن کے مخالف ہیں یا مخالف ٹھہرائی جاتی ہیں اور اُن کی کثرت نے اس درخت کو دبا لیا ہے اور اس کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔تب میری آنکھ کھل گئی۔‘‘ (ریویو برمباحثہ بٹالوی و چکڑالوی۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ۲۱۲ حاشیہ) ۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) یعنی ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۲۰۶تا۲۱۶۔