تذکرہ — Page 402
مئی ۱۹۰۲ء ’’ دَوران ا یام؎۱ دورہ مرض میں ۱۔اَلْیَوْمَ یَـوْمُ عِیْدٍ۔۲۔کُلَّ یَوْمٍ ھُوَ فِیْ شَاْنٍ۔؎۲ ۳۔اے میرے قادر خدا اس پیالہ کو ٹال دے۔۴۔خدا غمگین ہے۔۵۔یُعَظِّمُکَ الْمَلَآ ئِکَۃُ۔؎۳ خدا تعالیٰ کی وحی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوئی۔‘‘ (الحکم جلد۶ نمبر ۱۹ مورخہ ۲۴؍مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۱) مئی ۱۹۰۲ء ’’فرمایا۔بیماری کی شدّت میں جبکہ یہ گمان ہوتا تھا کہ رُوح پرواز کر جائے گی مجھے بھی الہام ہوا۔اَللّٰھُمَّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِ ہِ الْعِصَا بَۃَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَ بَدًا۔‘‘؎۴ (الحکم جلد۶ نمبر ۲۰ مورخہ ۳۱؍مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۵) جون ۱۹۰۲ء ’’ سَیُـھْزَمُ فَلَا یُرٰی۔نَبَأٌ مِّنَ اللّٰہِ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّـرَّ وَ اَخْفٰی۔ترجمہ۔عنقریب وہ گریز کر جائے گا اور پھر نظرنہ آئے گا۔یہ پیشگوئی ؎۵ہے خدا کی طرف سے جو نہاں در نہاں کو جاننے والا ہے۔‘‘ (الہُدیٰ والتبصرۃ لمن یّرٰی۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۲۵۴) ۱۹۰۲ء ’’ مَیں ایک اَوررؤیالکھتا ہوں جو طاعون کی نسبت مجھے ہوئی اور وہ یہ کہ مَیں نے ایک جانور دیکھا جس کا قد ہاتھی کے قد کے برابر تھا مگر مونہہ آدمی کے مونہہ سے ملتا تھا اور بعض اعضاء دوسرے جانوروں سے مشابہ تھے اور مَیں نے دیکھا کہ وہ یوں ہی قدرت کے ہاتھ سے پیدا ہوگیا اور مَیں ایک ایسی جگہ پر بیٹھا ہوں جہاں چاروں طرف بَن ہیں جن میں بَیل، گدھے، گھوڑے، کتے، سُؤر، بھیڑئیے، اُونٹ وغیرہ ہر ایک قسم کے موجود ہیں اور میرے دل میں ڈالا گیا کہ یہ سب انسان ہیں جو بد عملوں سے ان صورتوں میں ہیں۔۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) ۹، ۱۰؍مئی ۱۹۰۲ء کو حضرت اقدس علیہ السلام کو دردِ صُلب کا دورہ ہوا تھا اس کی طرف اشارہ ہے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) ۱۔آج کادن عید کا دن ہے۔۲۔ہر دن وہ ایک نئی شان میں ہوتا ہے۔۳ (ترجمہ از مرتّب) ۵۔فرشتے تیری تعظیم کرتے ہیں۔۴ (ترجمہ) اے خدا! اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کردیا تو پھر اس کے بعد اس زمین میں تیری پرستش کبھی نہ ہوگی۔(الحکم مورخہ ۳۱؍مئی ۱۹۰۲ء صفحہ ۵) ۵ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ پیشگوئی علّامہ رشید رضا ایڈیٹر المناؔر مصر کے متعلق ہے۔