تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 401 of 1089

تذکرہ — Page 401

آخری دنوں میں خدا کا یہ نشان ہوگا تا وہ قوموں میں فرق کرکے دکھلاوے۔؎۱لیکن وہ جو کامل طور پر پَیروی نہیں کرتا وہ تجھ میں سے نہیں ہے۔اس کے لئے مت دل گیر ہو۔یہ حکمِ الٰہی ہے جس کی وجہ سے ہمیں اپنے نفس کے لئے اور ان سب کے لئے جو ہمارے گھر کی چار دیوار میں رہتے ہیں ٹیکا کی کچھ ضرورت نہیں۔‘‘ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ۲) (ج) ’’اور اُس نے مجھے مخاطب کرکے یہ بھی فرما دیا کہ۔عموماً قادیان میں سخت بربادی افگن طاعون نہیں آئے گی جس سے لوگ کتوں کی طرح مریں اور مارے غم اور سرگردانی کے دیوانہ ہوجائیں اور عموماً تمام لوگ اس جماعت کے گو وہ کتنے ہی ہوں مخالفوں کی نسبت طاعون سے محفوظ رہیں گے۔‘‘ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ۲) ۱۱؍ مئی ۱۹۰۲ء ’’آج صبح خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی۔خوشی کا مقام۔نَصْـرٌ مِّنَ اللّٰہِ وَ فَتْحٌ قَرِیْبٌ۔؎۲ فرمایا۔اب یہ ہماری آمدِ ثانی ہے اور فرمایا۔مسیح علیہ السلام کو صلیب کا واقعہ پیش آیا اور خدا تعالیٰ نے انہیں اس سے نجات دی۔ہمیں اس کی مانند صُلْب یعنی پیٹھ کے متعلّقات کے درد؎۳ سے وہی واقعہ جو پورا موت کا نمونہ تھا پیش آیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس سے عافیت بخشی۔اور فرمایا جس طرح توریت کا وہ بادشاہ جسے نبی نے کہا کہ تیری عمر کے پندرہ دن رہ گئے ہیں اور اس نے بڑی تضرع اور خشوع سے گِریہ و بکا کیا اور خدا تعالیٰ نے اس نبی کی معرفت اُسے بشارت دی کہ اس کی عمر پندرہ روز کی جگہ پندرہ سال تک بڑھائی گئی اور معاً اُسے ایک اَور خوشخبری دی گئی کہ دشمن پر اُسے فتح بھی نصیب ہوگی اسی طرح اللہ تعالیٰ نے ہمیں بھی دو بشارتیں دی ہیں۔ایک عافیت یعنی عمر کی درازی کی بشارت، جس کے الفاظ ہیں ’’خوشی کا مقام‘‘ دوسری ’’عظیم الشان نصرت اور فتح کی بشارت۔‘‘ (الحکم پرچہ غیر معمولی۔مورخہ ۱۱؍مئی ۱۹۰۲ء) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’مَیں باربار کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس پیشگوئی کو ایسے طور سے ظاہر کرے گا کہ ہر ایک طالب حق کو کوئی شک نہیں رہے گا اور وہ سمجھ جائے گا کہ معجزہ کے طور پر خدا نے اس جماعت سے معاملہ کیا ہے بلکہ بطور نشان الٰہی کے نتیجہ یہ ہوگا کہ طاعون کے ذریعہ سے یہ جماعت بہت بڑھے گی اور خارق عادت ترقی کرے گی اور ان کی یہ ترقی تعجب سے دیکھی جائے گی۔‘‘ (کشی نوح۔روحانی خزائن جلد۱۹ صفحہ ۵،۶) ۲ (ترجمہ از مرتّب) اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نصرت اور جلد آنے والی فتح۔۳ یہ درد گردہ تھا۔(شمس)