تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 371 of 1089

تذکرہ — Page 371

طرف خدا تعالیٰ تھا جو آپ تھے۔۹۔آسمان پر دیکھنے والوں کو ایک رائی برابر غم نہیں ہوتا۔۱۰۔یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبدالکریم کو۔۱۱۔خُذُوا الرِّفْقَ۔؎۱ اَلرِّفْقَ فَاِنَّ الرِّفْقَ رَاْسُ الْـخَیْرَاتِ۔نرمی کرو۔نرمی کرو کہ تمام نیکیوں کا سر نرمی ہے (اخویم مولوی عبدالکریم صاحب نے اپنی بیوی سے کسی قدر زبانی سختی کا برتاؤ کیا تھا۔اس پر حکم ہوا کہ اس قدر سخت گوئی نہیں چاہیے۔حتی المقدور پہلا فرض مومن کا ہر ایک کے ساتھ نرمی اور حُسنِ اخلاق ہے اور بعض اَوقات تلخ الفاظ کا استعمال بطور تلخ دوا کے جائز ہے۔امابحکم ضرورت و بقدر ضرورت نہ یہ کہ سخت گوئی طبیعت پر غالب آجائے۔) ۱۲۔خدا تیرے سب کام درست کردے گا اور تیری ساری مُرادیں تجھے دے گا۔۱۳۔ربّ الافواج اس طرف توجہ کرے گا۔۱۴۔اگر مسیح ناصری کی طرف دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس جگہ اس سے برکات کم نہیں ہیں۔۱۵۔اور مجھے آگ سے مت ڈراؤ کیونکہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام؎۲ ہے۔(یہ فقرہ بطور حکایت میری طرف سے خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔) اور پھر فرمایا ’’ لوگ آئے اور دعویٰ کر بیٹھے۔شیرِ خدا نے اُن کو پکڑا۔شیرِ خدا نے فتح پائی۔اور پھر فرمایا۔۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ اس الہام میں تمام جماعت کے لئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رِفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں۔وہ اُن کی کنیزکیں نہیں ہیں۔درحقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغاباز نہ ٹھہرو۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَ عَاشـِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۳؎ یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی کرو اور حدیث میں ہے خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ بِاَھْلِہٖ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ان کے لئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پرہیز کرو کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندہ برتن کی طرح جلد مت توڑو۔‘‘ (اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۲۸حاشیہ) ۲ البدر میں یہ الہام یوں مندرج ہے۔’’مجھے یاد ہے کہ ایک مرتبہ مجھے الہام ہوا تھا اردو زبان میں آگ سے ہمیں مت ڈرا۔آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جو خدا کا بندہ ہوگا اسے طاعون نہ ہوگی اور جو شخص ضرر اٹھاوے گا اپنے نفس سے اٹھاوے گا۔‘‘ (البدر مورخہ ۲۸؍ نومبر و ۵؍ دسمبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۳۴) ۳ النّسآء: ۲۰