تذکرہ — Page 370
عنقریب ہے کہ خدا تم میں اور تمہارے دشمنوں میں دوستی کردے گا؎۱اور تیرا خدا ہر چیز پر قادر ہے۔اس روز وہ لوگ سجدہ میں گریں گے یہ کہتے ہوئے کہ اے ہمارے خدا ہمارے گناہ معاف کر ہم خطا پر تھے۔آج تم پر کوئی سرزنش نہیں خدا معاف کرے گا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔مَیں خدا ہوں۔میری پرستش کر اور میرے تک پہنچنے کے لئے کوشش کرتا رہ۔اپنے خدا سے مانگتا رہ اور بہت مانگنے والا ہو۔خدا دوست اور مہربان ہے۔اس نے قرآن سکھلایا۔پس تم قرآن کو چھوڑ کر کس حدیث پر چلو گے۔ہم نے اس بندہ پر رحمت نازل کی ہے۔اور یہ اپنی طرف سے نہیں بولتا بلکہ جو کچھ تم سنتے ہو یہ خدا کی وحی ہے۔یہ خدا کے قریب ہوا یعنی اُوپر کی طرف گیا اور پھر نیچے کی طرف تبلیغِ حق کے لئے جھکا اس لئے یہ دوقوسوں کے وسط میں آگیا۔اُوپر خدا اور نیچے مخلوق۔مکذّبین کے لئے مجھ کو چھوڑ دے۔مَیں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں گا۔میرا دن بڑے فیصلہ کا دن ہے اورتُو سیدھی راہ پر ہے اور جو کچھ ہم اُن کے لئے وعدے کرتے ہیں ہوسکتا ہے کہ ان میں سے کچھ تیری زندگی میں تجھ کو دکھلا دیں اور یا تجھ کو وفات دے دیں اور بعد میں وہ وعدے پورے کریں۔اور مَیں تجھے اپنی طرف اُٹھاؤں گا یعنی تیرا رَفع اِلی اللہ دنیا پر ثابت کردُوں گا اور میری مدد تجھے پہنچے گی۔مَیں ہوں وہ خدا جس کے نشان دلوں پر تسلّط کرتے ہیں اور اُن کو قبضہ میں لے آتے ہیں۔‘‘ (اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۲۱ تا ۴۲۸) ۱۹۰۰ء ’’۱۔ایک عزت کا خطاب۔ایک عزت کا خطاب۔لَکَ خِطَابُ الْعِزَّۃِ۔۲۔ایک بڑا نشان اس کے ساتھ ہوگا۔(عزت کے خطاب سے مراد یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے اسباب پیدا ہوجائیں گے کہ اکثر لوگ پہچان لیں گے اور عزت کا خطاب دیں گے اور یہ تب ہوگا جب ایک نشان ظاہر ہوگا۔) ۳۔خدا نے ارادہ کیا ہے کہ تیرا نام بڑھاوے اور آفاق میں تیرے نام کی خوب چمک دکھاوے۔۴۔مَیں اپنی چمکار دکھلاؤں گا اور قدرت نمائی سے تجھے اُٹھاؤں گا۔۵۔آسمان سے کئی تخت اُترے مگر سب سے اُونچا تیرا تخت بچھایا گیا۔۶۔دشمنوں سے ملاقات کرتے وقت فرشتوں نے تیری مدد کی۔۷۔آپ کے ساتھ انگریزوں کا نرمی کے ساتھ ہاتھ تھا۔۸۔اسی ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’یہ تو غیر ممکن ہے کہ تمام لوگ مان لیں کیونکہ بموجب آیت وَلِذَالِکَ خَلَقَھُمْ۲؎ اور بموجب آیت کریمہ وَجَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ۔۳؎ سب کا ایمان لانا خلاف نصِ صریح ہے۔پس اس جگہ سعید لوگ مراد ہیں۔‘‘ (اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد ۱۷، صفحہ ۴۲۷ حاشیہ) ۲ (ترجمہ از ناشر) اور اسی کے لئے اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔(ھود: ۱۲۰) ۳ (ترجمہ از ناشر) اور تیرے متبعین کو منکروں پر قیامت کے دن تک فائق رکھنے والا ہوں۔(اٰل عـمران : ۵۶)