تذکرہ — Page 372
بخرام کہ وقتِ تو نزدیک رسید و پائے مـحمدیاں برمنار بلند تر محکم افتاد۔؎۱ پاک محمد مصطفیٰ نبیوں کا سردار۔و روشن شد نشا نہائے من۔۲؎ بڑا مبارک وہ دن ہوگا۔دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اُس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کردے گا۔آمین۔‘‘ (اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد ۱۷صفحہ ۴۲۸، ۴۲۹ ) ۱۹۰۰ء ’’ میرے ایک؎۳ دوست نے اپنی نیک نیتی سے یہ عذر پیش کیا تھا کہ آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا؎۴ میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مخاطب ہیں۔اس سے کیوں کر سمجھا جائے کہ اگر کوئی دوسرا شخص افترا کرے تو وہ بھی ہلاک کیا جائے گا… جس رات مَیں نے اپنے اس دوست کو یہ باتیں سمجھائیں تو اسی رات مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ حالت ہوکر جو وحی اللہ کے وقت میرے پر وارد ہوتی ہے وہ نظارہ گفتگو کا دوبارہ دکھلایا گیا اور پھر الہام ہوا۔قُلْ اِنَّ ھُدَی اللّٰہِ ھُوَ الْھُدٰی۵؎ یعنی خدا نے جو مجھے اس آیت لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا کے متعلق سمجھایا؎۶ہے۔وہی معنے صحیح ہیں۔‘‘ (اربعین نمبر۴۔روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۴۳۴ تا ۴۳۶) ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ اس فقرہ سے مُراد کہ محمدیوں کا پَیر اونچے منار پر جا پڑا یہ ہے کہ تمام نبیوں کی پیشگوئیاں جو آخرالزمان کے مسیح موعود کے لئے تھیں جس کی نسبت یہود کا خیال تھا کہ ہم میں سے پیدا ہوگا اور عیسائیوں کا خیال تھا کہ ہم میں سے پیدا ہوگا مگر وہ مسلمانوں میں سے پیدا ہوا اِس لئے بلند مینار عزت کا محمدیوں کے حصّہ میں آیا اور اس جگہ محمدی کہا۔یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو لوگ اب تک صرف ظاہری قوت اور شوکتِ اسلام دیکھ رہے تھے جس کا اسم مـحمد مظہر ہے اب وہ لوگ بکثرت آسمانی نشان پائیں گے جو اسم احـمد کے مظہر کو لازم حال ہے کیونکہ اسم احـمد انکسار اور فروتنی اور کمال درجہ کی مـحوّیت کو چاہتا ہے جو لازم حال حقیقت احـمدیّت اور حامدیّت اور عاشقیّت اور مُـحبیّت ہے اور حامدیّت اور عاشقیّت کے لازم حال صدورِ آیاتِ تائیدیہ ہے۔‘‘ (اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۲۹ حاشیہ) ۲ (ترجمہ از ناشر) اور میرے نشان روشن ہوگئے۔۳ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) میاں وزیر خاں صاحب افغان کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دوست مولوی محمد احسن صاحب تھے۔رجسٹر روایات صحابہ نمبر ۱۴ صفحہ ۳۶۳۔۴ الـحاقّۃ: ۴۵ ۵ (ترجمہ از ناشر) کہہ ہدایت دراصل خدا کی ہدایت ہے۔۶ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ اگر کوئی شخص بطور افترا کے نبوت اور مامور من اللہ ہونے کا دعویٰ کرے تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہء نبوت کے مانند ہر گز زندگی نہیں پائے گا۔‘‘ (اربعین نمبر ۴۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۳۰)