تذکرہ — Page 312
۲۸؍ فروری ۱۹۰۰ء ’’ فَلَمَّا تَـجَلّٰی رَبُّہٗ لِلْجَبَلِ۔‘‘ (تحریر حضرت مسیح موعود علیہ السلام بر اوراق ملحقہ کتاب تعطیر الانام) (ترجمہ) پس جبکہ خدا نے پہاڑ پر تجلّی کی۔(براہین احمدیہ حصّہ چہارم۔روحانی خزائن جلد ۱ صفحہ ۶۱۶ حاشیہ در حاشیہ نمبر ۳) ۲ ؍مارچ؎۱ ۱۹۰۰ء ’’ چند ماہ کا عرصہ گزرتا ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کو الہام ہوا تھا۔بقیہ حاشیہ۔اتفاق ہوا کہ اس دن ہمارے وکیل خواجہ کمال الدین کو خیال آیا کہ پُرانی مثل کا انڈکس دیکھنا چاہیےیعنی ضمیمہ جس میں ضروری احکام کا خلاصہ ہوتا ہے۔جب وہ دیکھا گیا تو اُس میں وہ بات نکلی جس کے نکلنے کی توقع نہ تھی۔یعنی حاکم کا تصدیق شدہ یہ حکم نکلا کہ اس زمین پر قابض نہ صرف امام الدین ہے بلکہ میرزا غلام مرتضیٰ یعنی میرے والد صاحب بھی قابض ہیں۔تب یہ دیکھنے سے میرے وکیل نے سمجھ لیا کہ ہمارا مقدمہ فتح ہوگیا۔حاکم کے پاس یہ بیان کیا گیا۔اس نے فی الفور وہ انڈکس طلب کیا اور چونکہ دیکھتے ہی اس پر حقیقت کُھل گئی اس لئے اس نے بلاتوقف امام الدین پر ڈگری زمین کی بمعہ خرچہ کردی۔اگر وہ کاغذ پیش نہ ہوتا تو حاکم مـجوّز بجز اس کے کیا کرسکتا تھا کہ مقدمہ کو خارج کرتا اور دشمن بدخواہ کے ہاتھ سے ہمیں تکلیفیں اُٹھانی پڑتیں۔یہ خدا کے کام ہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اور یہ پیشگوئی درحقیقت ایک پیشگوئی نہیں بلکہ ۲دو پیشگوئیاں ہیں کیونکہ ایک تو اس میں فتح کا وعدہ ہے اور دوسرے ایک امر مخفی کے ظاہر کرنے کا وعدہ ہے جو سب کی نظر سے پوشیدہ تھا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۸۳، ۲۸۴) (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) مذکورہ بالا فیصلہ جیسا کہ الحکم مورخہ ۱۷؍اگست ۱۹۰۱ء صفحہ ۱۴ سے معلوم ہوتا ہے۔۱۲؍اگست ۱۹۰۱ء کو ہوا جس میں ڈسٹرکٹ جج گورداسپور نے دیوار گرانے اور سفید میدان میں کسی جدید تعمیر نہ کرنے کا دوامی حکم دیا اور ایک سو روپیہ بطور حرجانہ مدعی کو علاوہ اخراجات مقدمہ کے دیئے جانے کا حکم صادر فرمایا جسے حضرت اقدس نے کمال فیاضی سے مرزا امام الدین کی درخواست پر اسے معاف کردیا۔۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) میاں امام الدین صاحبؓ سکنہ سیکھواں ضلع گورداسپور نے الہام اَ۔لْاَمْرَاضُ تُشَاعُ وَالنُّفُوْسُ تُضَاعُ کی تاریخ ۲؍مارچ ۱۹۰۰ء لکھی ہے۔دیکھیے رجسٹر روایات صحابہ نمبر ۵ صفحہ ۶۲۔