تذکرہ — Page 308
۱۸۹۹ء ’’ مبشروں کا زوال نہیں ہوتا۔گورنر؎۱ جنرل کی پیشگوئیوں کے پورا ہونے کا وقت آگیا۔‘‘ (الحکم جلد ۳ نمبر۴۰ مورخہ ۱۰؍ نومبر ۱۸۹۹ء صفحہ ۶) ۱۸۹۹ء ’’خدا نے مجھے تلوار کے ساتھ نہیں بھیجا اور نہ مجھے جہاد کا حکم دیا بلکہ مجھے خبر دی کہ تیرے ساتھ آشتی اور صلح پھیلے گی۔ایک درندہ بکری کے ساتھ صلح کرے گا اور ایک سانپ بچوں کے ساتھ کھیلے گا۔یہ خدا کا ارادہ ہے گو لوگ تعجب کی راہ سے دیکھیں۔‘‘ (اشتہار واجب الاظہار۔ضمیمہ تریاق القلوب نمبر۵۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۵۲۱) ۵؍ جنوری ۱۹۰۰ء ’’ میرے چچا زاد بھائیوں میں سے امام الدین نام ایک سخت مخالف تھا۔اُس نے یہ ایک فتنہ برپا کیا کہ ہمارے گھر کے آگے ایک دیوار کھینچ دی اور ایسے موقعہ پر دیوا رکھینچی کہ مسجد میں آنے جانے کا راستہ رُک گیا اور جو مہمان میری نشست کی جگہ پر میرے پاس آتے تھے یا مسجد میں آتے تھے وہ بھی آنے سے رُک گئے اور مجھے اور میری جماعت کو سخت تکلیف پہنچی۔گویا ہم محاصرہ میں آگئے۔ناچار دیوانی میں منشی خدا بخش صاحب ڈسٹرکٹ جج کے محکمہ میں نالش کی گئی۔جب نالش ہوچکی تو بعد میں معلوم ہوا کہ یہ مقدمہ ناقابلِ فتح ہے اور اس میں یہ مشکلات ہیں کہ جس زمین پر دیوار کھینچی گئی ہے اس کی نسبت کسی پہلے وقت کی مثل کی رُو سے ثابت ہوتا ہے کہ مدّعا علیہ یعنی امام الدین قدیم سے اس کا قابض ہے اور یہ زمین دراصل کسی اَور شریک کی تھی جس کانام غلام جیلانی تھا اور اس کے قبضہ میں سے نکل گئی تھی تب اس نے امام الدین کو اس زمین کا قابض خیال کرکے گورداسپور میں بصیغہءِ دیوانی نالش کی تھی اور بوجہ ثبوت مخالفانہ قبضہ کے وہ نالش خارج ہوگئی تھی تب سے امام الدین کا اس پر قبضہ چلا آتا ہے… اس سخت مشکل کو دیکھ کر ہمارے وکیل خواجہ کمال الدین نے ہمیں یہ بھی صلاح دی تھی کہ بہتر ہوگا کہ اس مقدمہ میں صلح کی جائے۔یعنی امام الدین کو بطور خود کچھ روپیہ دے کر راضی کر لیا جائے لہٰذا مَیں نے مجبوراً اس تجویز کو پسند کرلیا تھا مگر وہ ایسا انسان نہیں تھا جو راضی ہوتا۔اس کو مجھ سے بلکہ دین اسلام سے ایک ذاتی بُغض تھا اور اس کو پتہ لگ گیا تھا کہ مقدمہ چلانے کا اِن پر قطعاً دروازہ بند ہے لہٰذا وہ اپنی شوخی میں اَور بھی بڑھ گیا۔آخر ہم نے اس بات کو خدا تعالیٰ پر چھوڑ دیا… اور امام الدین کی یہاں تک بد نیت تھی کہ ہمارے گھر کے آگے جو صحن تھا جس میں آکر ہماری جماعت کے یکّے ٹھہرتے تھے وہاں ہر وقت مزاحمت کرتا اور گالیاں ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا۔’’ہمارا نام حَکَمِ عَام بھی ہے جس کا ترجمہ اگر انگریزی میں کیا جائے تو گورنر جنرل ہوتا ہے۔‘‘ (الحکم مورخہ ۲۴ ؍جولائی ۱۸۹۹ء صفحہ ۶)