تذکرہ — Page 307
گیا۔مَیں نے دیکھا کہ وہ ایک پتلا سا لڑکا گورے رنگ کا ہے۔مَیں نے اس خواب کی یہ تعبیر کی ہے کہ عزیزؔ عزت پانے والے کو کہتے ہیں اور سلطان جو خواب میں اس لڑکے کا باپ سمجھا گیا ہے۔یہ لفظ یعنی سلطان عربی زبان میں اُس دلیل کو کہتے ہیں کہ جو ایسی بیّن الظہور ہو جو بباعث اپنے نہایت درجہ کے روشن ہونے کے دلوں پر اپنا تسلّط کرلے گویا سلطان کا لفظ تسلّط سے لیا گیا ہے اور سلطان عربی زبان میں ہر ایک قسم کی دلیل کو نہیں کہتے بلکہ ایسی دلیل کو کہتے ہیں کہ جو اپنی قبولیت اور روشنی کی وجہ سے دلوں پر قبضہ کرلے اور طبائع سلیمہ پر اُس کا تسلّطِ تام ہوجائے۔پس اس لحاظ سے کہ خواب میں عزیز جو سلطان کا لڑکا معلوم ہوا اس کی یہ تعبیر ہوئی کہ ایسا نشان جو لوگوں کے دلوں پر تسلّط کرنے والا ہوگا ظہور میں آئے گا اور اس نشان کے ظہور کا نتیجہ جس کو دوسرے لفظوں میں اس نشان کا بچہ کہہ سکتے ہیں دلوں میں میرا عزیز ہونا ہوگا جس کو خواب میں عزیز کے تمثّل سے ظاہر کیا گیا۔‘‘ (ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ۴۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۵۰۵،۵۰۶) ۲۱ ؍اکتوبر ۱۸۹۹ء ’’ ایک خواب …ابھی ۲۱؍اکتوبر ۱۸۹۹ء کو مَیں نے دیکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ مَیں نے خواب میں مـحبّی اخویم مفتی محمد صادق کو دیکھا… کہ نہایت روشن اور چمکتا ہوا ان کا چہرہ ہے اور ایک لباس فاخرہ جو سفید ہے پہنے ہوئے ہیں اور ہم دونوں ایک بگھی میں سوار ہیں اور وہ لیٹے ہوئے ہیں اور ان کی کمر پر مَیں نے ہاتھ رکھا ہوا ہے۔یہ خواب ہے اور اس کی تعبیر جو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے یہ ہے کہ صدق جس سے مَیں محبّت رکھتا ہوں ایک چمک کے ساتھ ظاہر ہوگا اور جیسا کہ مَیں نے صادق کو دیکھا ہے کہ اس کا چہرہ چمکتا ہے اسی طرح وہ وقت قریب ہے کہ مَیں صادق سمجھا جاؤں گا اور صدق کی چمک لوگوں پر پڑے گی۔‘‘ (ضمیمہ تریاق القلوب نمبر ۴۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۵۰۴، ۵۰۵) بقیہ حاشیہ۔جسمانی رشتہ کے علاوہ روحانی طور پر بھی فرزندی میں داخل ہوجائیں گے۔سو اَلْـحَمْدُ لِلہ کہ حضرت ممدوح بھی ۲۵؍دسمبر ۱۹۳۰ء کو اپنے چھوٹے بھائی حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاتھ پر بیعت کرکے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں داخل ہوگئے۔