تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 302 of 1089

تذکرہ — Page 302

۱۸۹۹ء ’’ جو شخص تیری پَیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہوگا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام بابو الٰہی بخش صاحب۔مکتوبات احمد جلد ۱ صفحہ ۴۷۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۳۰؍ جون ۱۸۹۹ء ’’۳۰؍جون ۱۸۹۹ء میں مجھے یہ الہام ہوا۔پہلے بیہوشی۔پھر غشی۔پھر موت۔ساتھ ہی اس کے یہ تفہیم ہوئی کہ یہ الہام ایک مخلص دوست کی نسبت ہے جس کی موت سے ہمیں رنج پہنچے گا چنانچہ اپنی جماعت کے بہت سے لوگوں کو یہ الہام سنایا گیا اور الحکم ۳۰؍جون۱۸۹۹ء میں درج ہوکر شائع کیا گیا۔پھر آخر جولائی ۱۸۹۹ء میں ہمارے ایک نہایت مخلص دوست یعنی ڈاکٹر محمد بوڑے خاں اسسٹنٹ سرجن ایک ناگہانی موت سے قصوؔرمیں گزر گئے۔اوّل بیہوش رہے پھر یک دفعہ غشی طاری ہوگئی پھر اس ناپائیدار دنیا سے کوچ کیا اور اُن کی موت اور اس الہام میں صرف بیس۲۰ بائیس۲۲ دن کا فرق تھا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۲۳، ۲۲۴) ۱۸۹۹ء ’’ صبح حضرت اقدس کو یہ رؤیاہوتی ہے کہ حضرت ملکہ معظمہ قیصرہ ہند سلّمہا اللہ تعالیٰ گویا حضرت اقدس کے گھر میں رونق افروز ہوئی ہیں۔حضرت اقدس رؤیامیں عاجز راقم عبدالکریم کو جو اُس وقت حضور اقدس کے پاس بیٹھا ہے فرماتے ہیں کہ حضرت ملکہ معظّمہ کمال شفقت سے ہمارے ہاں قدم رنجہ فرما ہوئی ہیں اور ۲دو روز قیام فرمایا ہے ان کا کوئی شکریہ بھی ادا کرنا چاہیے۔اِس رؤیاکی تعبیر یہ تھی کہ حضرت کے ساتھ کوئی نصرتِ الٰہی شامل ہوئی چاہتی ہے۔‘‘؎۱ (از خط مولانا عبدالکریم صاحب ؓ مندرجہ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۸۹۹ء صفحہ۳) ۱ (نوٹ از مولانا عبد اللطیف بہاولپوری) اس ہفتہ میں سب سے عجیب اور دلچسپ بات جو واقع ہوئی …وہ ایک چٹھی کا حضرت کے نام آنا تھا۔اس میں پختہ ثبوت اور تفصیل سے لکھا ہے کہ جلال آباد (علاقہ کابل) کے علاقہ میں یوزآسف نبی کا چبوترہ موجود ہے اور وہاں مشہور ہے کہ دو۲ ہزار برس ہوئے کہ یہ نبی شام سے یہاں آیا تھا اور سرکار کابل کی طرف سے کچھ جاگیر بھی اس چبوترہ کے نام ہے… اس خط سے حضرت اقدس اِس قدر خوش ہوئے کہ فرمایا ’’اللہ تعالیٰ گواہ اور علیم ہے کہ اگر مجھے کوئی کروڑوں روپئے لادیتا تو مَیں کبھی اتنا خوش نہ ہوتا جیسا اس خط نے مجھے خوشی بخشی ہے۔‘‘ …خدا کا علم اور قدرت دیکھیے ظہر کے وقت اس رؤیا کی صحیح تاویل پوری ہوگئی۔‘‘ (از خط حضرت مولانا عبدالکریم صاحب ؓمندرجہ الحکم مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۸۹۹ء صفحہ۳)