تذکرہ — Page 301
۱۴؍جون ۱۸۹۹ء ’’ میرے گھر میں جو ایامِ اُمید تھے ۱۴؍ جون کو اوّل دردِ زہ کے وقت ہولناک حالت پیدا ہوگئی یعنی بدن تمام سرد ہوگیا اور ضعف کمال کو پہنچا اور غشی کے آثار ظاہر ہونے لگے۔اس وقت مَیں نے خیال کیا کہ شاید اب اس وقت یہ عاجزہ اس فانی دنیا کو الوداع کہتی ہے۔بچوں کی سخت دردناک حالت تھی اور دوسرے گھر میں رہنے والی عورتیں اور اُن کی والدہ تمام مُردہ کی طرح اور نیم جان تھے کیونکہ ردّی علامتیں یک دفعہ پیدا ہوگئی تھیں۔اس حالت میں اُن کا آخری دَم خیال کرکے اور پھر خدا کی قدرت کو بھی مظہر العجائب یقین کرکے اُن کی صحت کے لئے مَیں نے دعا کی۔یک دفعہ حالت بدل گئی اور الہام ہوا۔تَـحْوِیْلُ الْمَوْتِ یعنی ہم نے موت کو ٹال دیا اور دوسرے وقت پر ڈال دیا اور بدن پھر گرم ہوگیا اور حواس قائم ہوگئے اور لڑکا پیدا ہوا جس کا نام مبارک احمد رکھا گیا۔‘‘ (از مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمٰن صاحبؓ مدراسی۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۳۹۶ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۷؍ جون ۱۸۹۹ء ’’ ایک خواب ۱۷؍ جون ۱۸۹۹ء کو آیا اور وہ یہ ہے کہ حضرت اقدس کیا دیکھتے ہیں کہ آگ اور دھواں ہے اور چنگاڑیاں اُڑ کر آپ کی طرف آتی ہیں مگر ضرر نہیں دیتیں۔اس حال میں آپ یہ پڑھ رہے ہیں۔’’ یَـا؎۱ حَیُّ یَا قَیُّوْمُ بِرَحْـمَتِکَ اَسْتَغِیْثُ۔اِنَّ رَبِّیْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ۔‘‘ (منقول از خط مولانا عبدالکریم صاحبؓ مندرجہ الحکم جلد۳ نمبر ۲۲ مورخہ ۲۳؍جون ۱۸۹۹ء صفحہ ۸) ۲۲؍ جون ۱۸۹۹ء فرمایا کہ کل بہت دفعہ خدا کی طرف سے الہام ہوا کہ ’’تم لوگ متقی بن جاؤ اور تقویٰ کی باریک راہوں پر چلو تو خدا تمہارے ساتھ ہوگا۔‘‘ (الحکم جلد ۳ نمبر ۲۲ مورخہ ۲۳؍جون ۱۸۹۹ء صفحہ ۷ ) ۲۵؍جون ۱۸۹۹ء ’’ مَیں نے دو روز ہوئے کہ یاکم و بیش آپ کو خواب میں دیکھا تھا۔‘‘ (از مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمٰن صاحبؓ مدراسی۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۳۹۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء ۱ (ترجمہ از مرتّب) اے حـیّ اے قیّوم! مَیں تیری رحمت سے مدد چاہتا ہوں۔یقیناً میرا ربّ آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے۔