تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 303 of 1089

تذکرہ — Page 303

۱۸۹۹ء (الف) ’’ ایک دفعہ مجھے دانت میں سخت دَرد ہوئی۔ایک دَم قرار نہ تھا۔کسی شخص سے مَیں نے دریافت کیا کہ اس کا کوئی علاج ہے۔اس نے کہا کہ علاجِ دندان اخراجِ دندان اور دانت نکالنے سے میرا دل ڈرا۔تب اُس وقت مجھے غنودگی آگئی اور مَیں زمین پر بے تابی کی حالت میں بیٹھا ہوا تھا اور چارپائی پاس بچھی تھی مَیں نے بے تابی کی حالت میں اُس چارپائی کی پائینتی پر اپنا سر رکھ دیا اور تھوڑی سی نیند آگئی۔جب مَیں بیدار ہوا تو دَرد کا نام و نشان نہ تھا اور زبان پر یہ الہام جاری تھا۔اِذَا مَرِضْتَ فَھُوَ یَشْفِیْ یعنی جب تُو بیمار ہوتا ہے تو وہ تجھے شفا دیتا ہے۔فَالْـحَمْدُ لِلہِ عَلٰی ذَالِکَ۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد۲۲ صفحہ ۲۴۶؎۱، ۲۴۷) (ب) ’’ (حضرت )مولوی نورالدین صاحب کو ایک مہینہ سے زیادہ عرصہ ہوا لگاتار دانت کا سخت درد رہا اور سوائے اُکھڑوانے کے کسی علاج سے فائدہ نہ ہوا۔فرمایا؎۲: مجھے بھی ایک دفعہ خطرناک درد ہوا۔یہاں تک کہ مارے درد کے غشی ہوگئی۔اس میں الہام ہوا۔وَ اِذَا مَرِضْتَ فَھُوَ یَشْفِیْ جب اُٹھا تو درد جاتا رہا۔‘‘ (از خط مولوی عبدالکریم صاحب ؓ مندرجہ الحکم جلد ۳ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۸۹۹ء صفحہ۴) ۶ ؍جولائی ۱۸۹۹ء ’’۶؍جولائی کی رات کو خدا تعالیٰ نے بہشت و دوزخ کا نظارہ آپ کو دکھایا اوّل بہشت دکھائی گئی اور اس کے ہر قسم کے ثمرات و نعماء دکھائی گئیں اتنے میں الہام ہوا۔یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَـجٍّ عَـمِیْقٍ۔؎۳ پھر دوزخ دکھایا گیا۔وہ سخت مکروہ اور پاخانہ کی شکل تھا۔اتنے میں الہاماً زبان پر جاری ہوا۔۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یہ الہام یہاں اس لئے لایا گیا ہے کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت سے (جو جز ب میں درج ہے ) معلوم ہوتا ہے کہ ۱۰؍جولائی ۱۸۹۹ء سے یہ پہلے کا الہام ہے۔۲ یعنی حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔(مرزا بشیر احمد) ۳ (ترجمہ ) اس کی مدد ہر ایک دور کی راہ سے تجھے پہنچے گی۔(اربعین نمبر ۲۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۳۶۲)