تذکرہ — Page 297
رہیں گے چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔اس بارہ میں خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا۔اِنَّا تَـجَالَـدْ نَا فَانْقَطَعَ الْعَدُ وُّ وَاَسْبَا بُہٗ یعنی ہم نے تلوار کے ساتھ جنگ کیا۔پس نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن ہلاک ہوگیا اور اُس کےاسباب بھی ہلاک ہوئے۔اس جگہ دشمن سے مراد ایک ڈپٹی انسپکٹر ہے جس نے ناحق عداوت سے مقدّمہ بنایا تھا۔آخر طاعون سے ہلاک ہوا۔‘‘ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۲۲۷) ۱۸۹۹ء ’’ اِس؎۱کے بعد جو مجھے الہام ہوئے وہ اسی رؤیاکے مؤ یّد ہیں۔وہ بھی ذیل میں لکھتا ہوں تاکہ اُس آخری وقت میں جب یہ باتیں پوری ہوں ، لوگوں کے ایمان قوی ہوں… اور الہامات جو اس خواب کے مؤیّد ہیں یہ ہیں۔۱۔اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّالَّذِیْنَ ھُمْ مُّـحْسِنُوْنَ۔۲۔اَنْتَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا۔اَنْتَ مَعِیْ یَا اِبْرَاھِیْمُ۔۳۔یَاْتِیْکَ نُصْرَتِیْ۔۴۔اِنِّیْ اَنَا الرَّحْـمٰنُ ۵۔یَا اَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَکِ۔۶۔غِیْضَ ؎۲ الْمَآءُ وَقُضِیَ الْاَمْرُ۔۷۔سَلَامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ۔۸۔وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّـھَاالْمُجْرِمُوْنَ۔۹۔اِنَّا تَجَالَدْنَا فَانْقَطَعَ الْعَدُوُّ وَاَسْبَا بُہٗ۔۱۰۔وَیْلٌ لَّھُمْ اَنّٰی یُؤْفَکُوْنَ۔۱۱۔یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ وَیُوْثَقُ۔۱۲۔وَاِنَّ اللّٰہَ مَعَ الْاَبْرَارِ۔وَاِنَّہٗ عَلٰی نَصْـرِھِمْ لَقَدِیْرٌ۔۱۳۔شَاھَتِ الْوُجُوْہُ۔۱۴۔اِنَّہٗ مِنْ اٰیَۃِ اللّٰہِ وَ اِنَّہٗ فَتْحٌ عَظِیْمٌ۔۱۵۔اَنْتَ اِسْـمِیَ الْاَعْلٰی۔۱۶۔وَاَنْتَ مِنِّیْ بِـمَنْزِلَۃِ مَـحْبُوْبِیْنَ۔۱۷۔اِخْتَرْتُکَ لِنَفْسِیْ۔قُلْ اِنِّیْ اُمِرْتُ وَ اَنَـا اَوَّلُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔یعنی ۱۔خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔۲۔اور تُو پرہیزگاروں کے ساتھ ہے اور تو میرے ساتھ ہے اے ابراہیم۔۳۔میری مدد تجھے پہنچے گی۔۴۔مَیں رحمان ہوں۔۵۔اےزمین! اپنے پانی کو یعنی خلافِ واقعہ اور فتنہ انگیز شکایتوں کو جو زمین پر پھیلائی گئی ہیں نِگل جا۔۶۔پانی خشک ہوگیا اور بات کا فیصلہ ہوا۔۷۔تجھے سلامتی ہے یہ ربِّ رحیم نے فرمایا۔۸۔اور اے ظالمو! آج تم الگ ہوجاؤ۔۹۔ہم نے دشمن کو مغلوب کیا اور اس کے تمام اسباب کاٹ دیئے۔۱۰۔ان پر واویلا ہے۔کیسے افترا کرتے ہیں۔۱۱۔ظالم اپنے ہاتھ کاٹے گا اور اپنی شرارتوں سے روکا جائے گا۔۱۲۔اور ۱ یعنی مندرجہ بالا خواب ۳؍فروری ۱۸۹۹ء (مرزا بشیر احمد) ۲ (نوٹ از ناشر) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بر اوراق ملحقہ کتاب تعطیر الانام اس الہام کی تاریخ ۱۸؍جنوری ۱۸۹۹ء درج فرمائی ہے۔یہ اوراق جماعت کے ریکارڈ میں موجود ہیں۔