تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 298 of 1089

تذکرہ — Page 298

خدا نیکوں کے ساتھ ہوگا۔وہ اُن کی مدد پر قادر ہے۔۱۳۔مونہہ بگڑیں گے۔۱۴۔خدا کا یہ نشان ہے اور یہ فتحِ عظیم ہے۔۱۵۔تُو میرا وہ اِسم ہے جو سب سے بڑا ہے۔۱۶۔اور تُو محبوبین کے مقام پر ہے۔۱۷۔مَیں نے تجھے اپنے لئے چُنا۔۱۸۔کہہ مَیں مامور ہوں اور تمام مومنوں میں سے پہلا ہوں۔‘‘ (حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ۴۴۶) ۱۸۹۹ء ’’ وہ مقدمہ جو منشی محمد بخش ڈپٹی انسپکٹر بٹالہ کی رپورٹ کی بنا پر دائر ہوکر عدالت مسٹر ڈوئی صاحب مجسٹریٹ ضلع گورداسپورہ میں میرے پر چلایا گیا تھا … اس مقدمہ کے انجام سے خدا تعالیٰ نے پیش از وقت مجھے بذریعہ الہام خبر دے دی کہ وہ مجھے آخر کار دشمنوں کے بد ارادے سے سلامت اور محفوظ رکھے گا اور مخالفوں کی کوششیں ضائع جائیں گی۔سو ایسا ہی وقوع میں آیا… قبل اِس کے جو یہ مقدمہ دائر ہو مجھے خدا تعالیٰ نے اپنے الہام کے ذریعہ سے اطلاع دی تھی کہ تم پر ایسا مقدّمہ عنقریب ہونے والا ہے اور اس اطلاع پانے کے بعد مَیں نے دعا کی اور وہ دعا منظور ہوکر آخر میری بریّت ہوئی اور قبل انفصال مقدمہ کے یہ الہام بھی ہوا کہ تیری عزت اور جان سلامت رہے گی اور دشمنوں کے حملے جو اسی بد غرض کے لئے ہیں اُن سے تجھے بچایا جائے گا۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد۱۵ صفحہ ۳۰۹) ۱۸۹۹ء ’’ ظہر کی نماز کا وقت تھا کہ یک دفعہ مجھے الہام ہوا کہ تَرٰی فَـــخِــذًا اَلِــیْـمًا یعنی تُو ایک دردناک ران دیکھے گا۔تب مَیں نے یہ الہام اس؎۱کو سنایا اور پھر بعد اس کے بلا توقف مَیں نماز کے لئے مسجد کی طرف روانہ ہونے لگا اور وہ بھی میرے ساتھ ہی زینہ پر سے اُترا۔جب ہم زینہ پر سے اُتر آئے تو دو گھوڑوں پر دو لڑکے سوار دکھائی دیئے جن کی عمر بیس برس کے اندر اندر ہوگی ایک کچھ چھوٹا اور ایک بڑا۔وہ سوار ہونے کی حالت میں ہی ہمارے پاس آکر کھڑے ہوگئے ایک نے ان میں سے مجھ کو کہا کہ یہ دوسرا سوار میرا بھائی ہے اور اس کی ران میں سخت درد ہورہا ہے اس کا کوئی علاج پوچھنے آئے ہیں۔تب مَیں نے حامد علی کو کہہ دیا کہ گواہ رہ کہ یہ پیشگوئی دو تین منٹ میں ہی پوری ہوگئی۔‘‘ (تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحہ ۱۹۶،۱۹۷) ۱ یعنی شیخ حامد علی کو۔(مرزا بشیر احمد)