تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 296 of 1089

تذکرہ — Page 296

مَیں نے اس کی یہ تعبیر؎۱کی ہے کہ وہ ظالم طبع مخالف جو میرے پر خلافِ واقعہ اور سراسر جھوٹ باتیں بنا کر گورنمنٹ تک پہنچاتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہوں گے اور جیسا کہ خدا تعالیٰ نے خواب میں ایک پتھر کو بھینس بنادیا اور اُس کو لمبی اور روشن آنکھیں عطا کیں اِسی طرح انجام کار وہ میری نسبت حُکّام کو بصیرت اور بینائی عطا کرے گا اور وہ اصل حقیقت تک پہنچ جائیں گے۔یہ خدا کے کام ہیں اور لوگوں کی نظر میں عجیب۔‘‘ (حقیقۃ المہدی۔روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحہ ۴۴۳ تا۴۴۵) (ب) ’’ اب فوجداری مقدّمہ کی تاریخ ۱۴؍فروری ۱۸۹۹ء ہوگئی ہے۔دراصل بات یہ ہے کہ اب تک یہی معلوم ہوتا ہے کہ حاکم کی نیت بخیر نہیں۔جمعہ کی رات مجھے یہ خواب آئی ہے کہ ایک لکڑی یا پتھر کو مَیں نے جنابِ الٰہی میں دعا کرکے بھینس بنا دیا ہے اور پھرا س خیال سے کہ ایک بڑا نشان ظاہر ہوا ہے۔سجدہ میں گرا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ رَبِّیَ الْاَعْلٰی۔رَبِّیَ الْاَعْلٰی۔میرے خیال میں ہے کہ شاید اس کی یہ تعبیر ہو کہ لکڑی اور پتھر سے مراد وہی سخت دل اور منافق طبع حاکم ہو اور پھر میری دُعا سے اس کا بھینس بن جانا اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ وہ ہمارے لئے ایک مفید چیز بن گئی ہے جس کے دُودھ کی اُمید ہے۔اگر یہ تاویل درست ہے تو امید قوی ہے کہ مقدّمہ پلٹا کھا کر نیک صورت پر آجائے گا اور ہمارے لئے مفید ہوجائے گا اور سجدہ کی تعبیر یہ لکھی ہے کہ دشمن پر فتح ہو۔الہامات بھی اس کے قریب قریب ہیں اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس خواب کے ظہور کا محل کوئی اَور ہو۔بہرحال ہمارے لئے بہتر ہے خواہ کسی پیرایہ میں ہو۔‘‘ (ماخوذ از مکتوب بنام ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؓ۔مکتوبات احمد جلد ۴ صفحہ ۲۱۲ مطبوعہ ۲۰۱۵ء ) ۱۸۹۹ء ’’ مسٹر ڈ۲؎وئی صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے پاس میری نسبت بہ نیت سزا دلانے کے فوجداری میں ایک مقدّمہ پولیس نے بنایا تھا اور اُس کی نسبت خدا تعالیٰ نے مجھے بتلایا کہ ایسی کوشش کرنے والے نامراد ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اس مقدّمہ۳؎ کے متعلق یہ خواب ہے کیونکہ پتھر یا لکڑی سے وہ منافق حاکم مراد ہے جس کا ارادہ یہ ہے کہ بدی پہنچاوے اور جس کی آنکھیں بند ہیں اور پھر بھینس بن جانا اور بڑی بڑی آنکھیں ہوجانا۔اس کی یہ تعبیر معلوم ہوتی ہے کہ یک دفعہ کوئی ایسے امور پیدا ہوجائیں جن سے حاکم کی آنکھیں کھل جائیں۔‘‘ (از مکتوب بنام چودھری رستم علی صاحبؓ۔مکتوبات احمدجلد ۲ صفحہ ۶۳۷،۶۳۸ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۲ Mr۔Dowie ۳ یعنی اس مقدمہ کے متعلق جو پولیس نےمسٹر ڈوئی ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت میں حضرت مسیح موعود ؑ کے خلاف دائر کیا تھا۔(ناشر)