تذکرہ — Page 283
اور مَیں گمان کرتا ہوں کہ غالباً یہ بات صحیح ہوگی۔کیونکہ مرضِ جَرب یعنی خارش میں ایسی دوائیں مفید پڑتی ہیں جن میں کچھ پارہ کا جزو ہو یا گندھک کی آمیزش ہو اور خیال کیا جاتا ہے کہ اس قسم کی دوائیں اس مرض کے لئے بھی مفید ہوسکیں اور جبکہ دونوں مرضوں کا مادہ ایک ہے تو کچھ تعجب نہیں کہ خارش کے پیدا ہونے سے اس مرض میں کمی پیدا ہوجائے۔یہ روحانی قواعد کا ایک راز ہے جس سے مَیں نے فائدہ اٹھایا ہے۔اگر تجربہ کرنے والے اس امر کی طرف توجہ کریں اور ٹیکہ لگانے والوں کی طرح بطور حفظِ ماتقدّم ایسے ملک کے لوگوں میں جو خطرہ طاعون میں ہوں خارش کی مرض پھیلاویں تو میرے گمان میں ہے کہ وہ مادہ اس راہ سے تحلیل پا جائے اور طاعون سے امن رہے مگر حکومت اور ڈاکٹروں کی توجہ بھی خدا تعالیٰ کے ارادے پر موقوف ہے مَیں نے محض ہمدردی کی راہ سے اس امر کو لکھ دیا ہے کیونکہ میرے دل میں یہ خیال ایسے زور کے ساتھ پیدا ہوا جس کو مَیں روک نہیں سکا۔‘‘ (ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد۱۴ صفحہ ۳۶۰) ۲۵؍مارچ ۱۸۹۸ء ’’ مَیں نے جو اپنی نسبت بعض خوابیں اور الہامات دیکھے ہیں مَیں اُن سے حیران ہوں۔دو مرتبہ مَیں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا مجھے مرض طاعون ہوگئی ہے اور ورمِ طاعون نمودار ہے۔اب آج بھی یہی خواب آئی ہے۔اسی کے قریب قریب ایک الہام بھی ہے جو کسی رنج اور بَلا پر دلالت کرتا ہے اور مُعَبّرین نے طاعون سے مراد کبھی تو طاعون اور کبھی خارش اور حکام کی طرف سے کوئی عذاب و تکالیف اور کبھی کوئی اور فتنہ رنج دِہ مراد لیا ہے۔معلوم نہیں کہ اس خواب کی کیا تعبیر ہے۔‘‘ (از مکتوب بنام سیٹھ عبدالرحمٰن صاحبؓ مدراسی۔مکتوبات احمد جلد ۲ صفحہ ۳۶۷ مطبوعہ ۲۰۰۸ء) ۱۸۹۸ء ’’جب کتاب اُمہات المؤمنین عیسائیوں کی طرف سے شائع ہوئی تو انجمن حمایت اسلام لاہور کے ممبروں نے گورنمنٹ میں اِس مضمون کا میموریل بھیجا کہ اس مضمون کی اشاعت بند کی جائے اور مصنف سے باز پُرس ہو۔مگر مَیں اُن کے میموریل کے سخت مخالف تھا اور مَیں نے اپنی تحریر؎۱ میں صاف طور پر شائع کیا تھا کہ یہ طریق اچھا نہیں۔مگر اُن لوگوں نے میری صلاح کو قبول نہ کیا بلکہ بد گوئی کی۔اسی اثنا میں مجھے الہام ہوا کہ سَتَذْکُرُوْنَ مَا اَقُوْلُ لَکُمْ وَاُفَوِّضُ اَمْرِیْ اِلَی اللّٰہِ یعنی عنقریب تمہیں یہ بات میری یاد آئے گی۔یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ تمہیں اپنے میموریل میں ناکامی رہے گی اور جس امر کو مَیں نے اختیار کیا ہے یعنی مخالفین کے اعتراضات کو ردّکرنا اور ان کو جواب دینا اس امر کو ۱ دیکھیے اشتہار ۴؍مئی ۱۸۹۸ء۔(مجموعہ اشتہارات جلد ۲ صفحہ ۴۲۷ تا ۴۳۲ مطبوعہ ۲۰۱۸ء) (مرزا بشیر احمد)