تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 282 of 1089

تذکرہ — Page 282

(ج) ’’اِنَّ اللّٰہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِھِمْ۔اِنَّہٗٓ اٰوَی الْقَرْیَۃَ۔یعنی خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دُور نہیں کرے گا جب تک لوگ اُن خیالات کو دُور نہ کرلیں جو اُن کے دلوں میں ہیں۔یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو مان نہ لیں تب تک طاعون دُور نہیں ہوگی اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تاتم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی کہ وہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا۔‘‘ (دافع البلاء۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ۲۲۵،۲۲۶) ۲؍فروری ۱۸۹۸ء ’’ آج تیسرا روز ہے، الہام ہوا کہ یَـوْمَ تَـاْتِیْکَ الْغَاشِیَۃُ یَـوْمَ تَنْجُوْ کُلُّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ۔یَـوْمَ نَـجْزِیْ کُلَّ نَفْسٍۭ بِمَا كَسَبَتْ۔‘‘؎۱ (از خط مولانا عبدالکریم صاحب ؓ محررہ ۴؍فروری ۱۸۹۸ء مندرجہ الحکم جلد ۲ نمبر ۲مورخہ ۶؍ مارچ ۱۸۹۸ء صفحہ ۱۰) ۶؍فروری ۱۸۹۸ء (الف) ’’ آج جو ۶؍فروری ۱۸۹۸ء روز یکشنبہ ہے۔مَیں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگارہے ہیں اور وہ درخت نہایت بدشکل اور سیاہ رنگ اور خوفناک اور چھوٹے قد کے ہیں۔مَیں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو اُنہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب مُلک میں پھیلنے والی ہے۔میرے پر یہ امر مشتبہ رہا کہ اُس نے یہ کہا کہ آئندہ جاڑے میں یہ مرض بہت پھیلے گا یا یہ کہا کہ اس کے بعد کے جاڑے میں پھیلے گا لیکن نہایت خوفناک نمونہ تھا جو مَیں نے دیکھا۔‘‘ ( ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد۱۴ صفحہ ۳۶۱) (ب) ’’ جب یہ پیشگوئی ۶؍فروری ۱۸۹۸ء میں شائع ہوئی تب پنجاب میں صرف ۲دو ضلعے آلودہ تھے مگر بعد اس کے پنجاب کے ۲۳ ضلعے اس مرض سے آلودہ ہوگئے اور پونے دس ماہ میں تین لاکھ سولہ ہزار کیس ہوئے اور دو لاکھ اٹھارہ ہزار سات سو ننانوے فوتیاں ہوئیں۔دیکھو سرکاری نقش جات۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد۱۸ صفحہ ۵۳۱،۵۳۲ حاشیہ) فروری ۱۸۹۸ء ’’ مجھے ایک رُوحانی طریق سے معلوم ہوا ہے کہ اس؎۲مرض اور مرض خارش کا مادہ ایک ہی ہے ۱ ’’یعنی ایک خوفناک ، غش ڈالنے والا، انسان کو چاروں طرف سے گھیرنے والا وقت آنے والا ہے۔اس وقت ہر ایک شخص اپنے اعمال کے سبب سے نجات پائے گا اس وقت ہم ہر شخص کو اس کے اعمال کے موافق جزا دیں گے۔حضرت نے ان الہامات کے بعد جماعت کو بڑی تاکید کی کہ تیاری کرو۔نمازوں میں عاجزی کرو۔تہجد کی عادت ڈالو۔تہجد میں رو رو کر دعائیں مانگو کہ خدا تعالیٰ گڑگڑانے والوں اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘ (الحکم مورخہ ۶؍مارچ ۱۸۹۸ء صفحہ ۱۰) ۲ یعنی مرضِ طاعون۔(شمس)