تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 1089

تذکرہ — Page 220

۱۱؍ستمبر۱۸۹۳ء ’’مَیں نے خواب میں دیکھا کہ والدہ محمود خوش لباس کے ساتھ ایک جگہ آئی ہے جہاں مولوی نور دین بیٹھے ہیں اور آکر دو جوڑا کڑا مولوی صاحب کو دیئے ہیں۔پھر دیکھا کہ وہ کھانا طیار کررہی ہیں اور منشی جلال الدین بیٹھے ہیں اور پھر ایک عورت آئی ہے جس کا نام اغلباً بھاگ بھری، جوان عورت ہے جس نے مجھ کو بلایا ہے۔‘‘ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۱۶) ۱۸؍ ستمبر ۱۸۹۳ء ’’۷؍ ربیع الاوّل ۱۳۱۱ھ۔۴؍اسوج  روزدو شنبہ۔اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْ ھٰذَا الرُّؤْیَـا۔میں نے خواب میں دیکھاکہ اوّل گویا کوئی شخص مجھ کو کہتا ہے کہ میرا نام فتح اور ظفر ہے اور پھر یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے۔اَصْلَحَ اللّٰہُ اَمْرِیْ کُلَّہٗ۔؎۱ اور پھر دیکھا کہ ایک مکان شبیہ مسجد میں ہوں اور ایک الماری کے پاس کھڑا ہوں اور حامد علی بھی کھڑا ہے اِتنے میں میری نظر پڑی تو مَیں نے میاں عبداللہ غزنوی کو دیکھا کہ بیٹھے (ہیں) اور میرا بھائی مرزا غلام قادر بھی بیٹھا ہے۔تب مَیں نے نزدیک ہوکر اُن کو السلام علیکم (کہا) تو انہوں نے بھی وعلیکم السلام کہا اور بہت سے دعائیہ کلمات ساتھ ملادیئے جن میں صرف یہ لفظ محفوظ رہا کہ اَخَّرَکَ اللّٰہُ مگر معنی یہی یاد رہے کہ ان کے کلمات ایسے ہی تھے کہ تیرا خدا مدد گار ہو۔تیری فتح ہو۔پھر مَیں اس مجلس میں بیٹھ گیا اور کہا کہ مَیں نے خواب بھی دیکھی ہے کہ کسی کو مَیں نے السلام علیکم کہا ہے اور اس نے جواب دیا ہے وَعَلَیْکُمُ السَّلَامُ وَالسَّلَامُ وَالظَّفَرُ۔‘‘ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۱۷) یکم اکتوبر۱۸۹۳ء خواب۔’’ رَاَیْتُ فِیْ لَیْلَتِیْ ھٰذِہٖ اَنَّ النَّمْلَ تَـخْرُجُ مِنْ اَنْفِیْ بَعْضُھَا حَیٌّ وَّ بَعْضُھَا مَیِّتٌ۔وَ بَعْدَھَا خَرَجَ الدَّمُ وَ جَـمَعَ فِی الْاَرْضِ۔وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِتَاْوِیْلِہٖ وَفَوَّضْتُ اَمْرِی اِلَیْہِ۔‘‘؎۲ (رجسٹر متفرق یاد داشتیں از حضرت مسیح موعود علیہ السلام صفحہ ۲۱۹) ۱ (ترجمہ از مرتّب) خدا تعالیٰ میرا تمام کام درست کردے۔۲ (ترجمہ از مرتّب) مَیں نے اسی رات خواب میں دیکھا کہ میری ناک سے چیونٹیاں نکل رہی ہیں بعض زندہ ہیں اور بعض مردہ۔اور اس کے بعد خون نکلا اور زمین میں جمع ہوگیا۔اللہ تعالیٰ اس کی تعبیر کو بہتر جانتا ہے اور مَیں نے اپنا معاملہ اس کے سپرد کیا۔