تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 221 of 1089

تذکرہ — Page 221

۱۸۹۳ء ’’ اگرچہ مسلمانوں کے ظاہری عقیدہ کے موافق لیلۃ القدر ایک متبرک رات کا نام ہے مگر جس حقیقت پر خدا تعالیٰ نے مجھ کو مطلع کیا ہے وہ یہ ہے کہ علاوہ ان معنوں کے جو مسلَّمِ قوم ہیں لیلۃ القدر وہ زمانہ بھی ہے جب دنیا میں ظلمت پھیل جاتی ہے اور ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے۔تب وہ تاریکی بالطبع تقاضا کرتی ہے کہ آسمان سے کوئی نور نازل ہو۔سو خدا تعالیٰ اس وقت اپنے نورانی ملائکہ اور رُوح القدس کو زمین پر نازل کرتا ہے۔اسی طور کے نزول کے ساتھ جو فرشتوں کی شان کے ساتھ مناسب حال ہے۔تب رُوح القدس تو اس مجدّد اور مصلح سے تعلق پکڑتا ہے جو اجتبا اور اصطفا کی خلعت سے مشرف ہوکر دعوتِ حق کے لئے مامور ہوتا ہے اور فرشتے ان تمام لوگوں سے تعلق پکڑتے ہیں جوسعید اور رشید اور مُستعد ہیں اور ان کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں اورنیک توفیقیں ان کے سامنے رکھتے ہیں۔تب دنیا میں سلامتی اور سعادت کی راہیں پھیلتی ہیں اور ایسا ہی ہوتا رہتا ہے جب تک دین اپنے اُس کمال کو پہنچ جائے جو اس کے لئے مقدّر کیا گیا ہے۔‘‘ (شہادۃ القرآن۔روحانی خزائن جلد۶صفحہ ۳۱۳،۳۱۴) ۱۸۹۳ء ’’ وَ اِنَّ رَبِّیْ قَدْ بَشَّـرَنِیْ فِی الْعَرَبِ وَاَلْھَمَنِیْ اَنْ اَمُوْنَـھُمْ وَ اُرِیَـھُمْ طَرِیْقَھُمْ وَاُصْلِحَ لَھُمْ شُیُوْنَـھُمْ۔؎۱ ‘‘ (حـمامۃ البشرٰی۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۱۸۲) ۱۸۹۳ء ’’ اَنْتَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّکَ رَحْـمَۃً مِّنْ عِنْدِ۔ہٖ۔وَمَا اَنْتَ بِفَضْلِہٖ مِنْ مَّـجَانِیْنَ۔وَیُـخَوِّفُوْنَکَ مِنْ دُوْنِہٖ۔اِنَّکَ بِاَعْیُنِنَا۔سَـمَّیْتُکَ الْمُتَوَکِّلَ یَـحْمَدُ کَ اللّٰہُ مِنْ عَرْشِہٖ۔وَلَنْ تَرْضٰی عَنْکَ الْیَھُوْدُ وَلَا النَّصَارٰی۔وَیَـمْکُرُوْنَ وَ یَـمْکُرُاللّٰہُ وَ اللّٰہُ خَیْرُ الْمَاکِرِیْنَ۔‘‘ ؎۲ (حـمامۃ البشرٰی۔روحانی خزائن جلد۷ صفحہ ۱۸۳) ۱۸۱ (ترجمہ از مرتّب) اور میرے ربّ نے عرب کی نسبت مجھے بشارت دی اور الہام کیا ہے کہ مَیں اُن کی خبر گیری کروں اورٹھیک راہ بتاؤں اور ان کا حال درست کروں۔۲ (ترجمہ از مرتّب) تُواپنے ربّ کی طرف سے اعلیٰ درجہ کی شہادت کے ساتھ اس کی طرف سے رحمت ہے اور تُو اس کے فضل سے مجنون نہیں ہے۔اور اللہ کے سوا تجھے اَوروں سے ڈراتے ہیں۔ہم خود تیری نگرانی کرنے والے ہیں۔مَیں نے تیرا نام متوکّل رکھا ہے۔اللہ اپنے عرش سے تیری تعریف کرتا ہے۔اور یہود ونصاریٰ تجھ سے کبھی راضی نہ ہوں گے اور تدبیریں کرتے رہیں گے اور اللہ بھی تدبیر کرے گا اور تدبیر کرنے میں اللہ سب سے بڑھ چڑھ کر ہے۔