تذکرہ — Page 219
عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ یَغْفِرُ اللّٰہُ لَکُمْ وَھُوَ اَرْحَـمُ الرَّاحِـمِیْنَ۔۱۰۹۔تَـمُوْتُ وَ اَنَا رَاضٍ مِّنْکَ۔سَلَامٌ عَلَیْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوْھَآ اٰمِنِیْنَ۔‘‘ (تحفہ بغداد۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۲۱ تا ۳۱) ۱۸۹۳ء ’’ وَ؎ ۱اِنِّـیْ اَنَـا الرَّحْـمَانُ نَاصِـرُ حِزْبِہٖ‘‘ وَ مَنْ کَانَ مِـنْ حِـزْبِیْ فَیُعْلٰی وَ یُـــنْصَـرٗ (کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۸۶) ۱۸۹۳ء وَ؎۲بَـشَّــرَنِیْ رَبِّیْ وَ قَـــــــالَ مُــــــبَــشِّــــــرًا ’’ سَتَعْرِفُ یَـوْمَ الْعِیْدِ وَالْعِیْدُ اَقْرَبُ‘‘ (کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۹۶) بقیہ ترجمہ۔سرزنش نہیں، اللہ تمہیں بخش دے گا اور وہ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔۱۰۹تو اس حالت میں وفات پائے گا کہ مَیں تجھ سے راضی ہوں گا۔تمہارے لئے سلامتی ہے اور خوشحالی ہے۔پس تم اس میں امن کے ساتھ داخل ہوجاؤ۔۱ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) اِس شعر کا پہلا مصرع الہامی ہے اور شعر کا ترجمہ یہ ہے اور مَیں ہی ہوں رحمٰن اپنی جماعت کی مدد کرنے والا۔اور جو شخص میرے گروہ میں سے ہو اُسے غلبہ اور نصرت دی جائے گی۔۲ (نوٹ از حضرت مرزا بشیر احمدؓ) اِس شعر کا دوسرا مصرع الہامی ہے اور شعر کا ترجمہ یہ ہے کہ میرے ربّ نے مجھے بشارت دی اور بشارت دے کر کہا کہ تو عنقریب عید کے دن کو پہچان لے گا اور عید اس سے قریب تر ہوگی۔اِس شعر کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں۔’’ کتاب کرامات الصّادقین کے ایک عربی شعر میں جو واقعہ قتل پنڈت لیکھرام سے چار سال پہلے تمام قوموں میں شائع ہوچکا تھا۔اُس کی موت کا دن اور تاریخ بھی بتلائی گئی تھی۔چنانچہ اس شعر پر ہندو اخبار نے لیکھرام کے قتل کے وقت بڑا شور مچایا تھا اور وہ شعر یہ ہے۔وَ بَشَّرَنِیْ رَبِّیْ……غرض یہ عظیم الشان پیشگوئی اس قدر قوت اور عام شہرت کے ساتھ پھیلنے کے بعد ۶؍مارچ ۱۸۹۷ء کو اس طرح پوری ہوئی کہ ایک شخص نے جس کا آج تک پتہ نہیںلگا کہ کون تھا، شام کے وقت لاہور کے شہر میں شنبہ کے دن جو عید سے دوسرا دن تھا لیکھرام کے پیٹ میں ایک کاری چھری مارکر دن دہاڑے ایسا غائب ہوا کہ آج تک پھر اس کا پتہ نہ لگا حالانکہ لیکھرام کے ساتھ کتنی مدّت سے رہتا تھا۔‘‘ (نزول المسیح۔روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۵۶۰)