تذکرہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 1089

تذکرہ — Page 190

یعنی ۱اس دن حق آئے گا اور صدق کھل جائے گا اور جو لوگ خسارہ میں ہیں وہ خسارہ میں پڑیں گے۔۲تُو میرے ساتھ اور مَیں تیرے ساتھ ہوں اور اس حقیقت کو کوئی نہیں جانتا مگر وہی جو رُشد رکھتے ہیں۔۳ہم پھر تجھ کو غالب کریں گے اور خوف کے بعد امن کی حالت عطا کردیں گے۔۴نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام تجھے حاصل ہوجائے گا۔۵خدا تیرے منہ کو بشّاش کرے گا اور تیرے بُرہان کو روشن کردے گا۔۶ اور تجھے ایک بیٹا عطا ہوگا اور فضل تجھ سے قریب کیا جائے گا اور میرا نُور نزدیک ہے۔۷اور کہتے ہیں کہ یہ مراتب تجھ کو کہاں؟ اِن کو کہہ کہ وہ خدا عجیب خدا ہے اُس کے ایسے ہی کام ہیں جس کو چاہتا ہے اپنے مقربوں میں جگہ دیتا ہے۔۸اور میرے فضل سے نومید مت ہو۔۹یوسف کو دیکھ اور اُس کے اقبال کو۔۱۰فتح کا وقت آرہا ہے اور فتح قریب ہے۔مخالف یعنی جن کے لئے توبہ مقدّر ہے ۱۱اپنی سجدہ گاہوں میں گریں گے کہ اے ہمارے خدا ہمیں بخش کہ ہم خطا پر تھے۔۱۲آج تم پر کوئی سرزنش نہیں، خدا تمہیں بخش دے گا اور وہ ارحم الراحمین ہے۔۱۳مَیں نے ارادہ کیا کہ ایک اپنا خلیفہ زمین پر مقرر کروں تو مَیں نے آدم کو پیدا کیا جو نَـجِیُّ الْاَسْرَار ہے۔۱۴ہم نے ایسے دن اس کوپیدا کیا جو وعدہ کا دن تھا۔یعنی جو پہلے سے پاک نبی ؐ کے واسطہ سے ظاہر کردیا گیا تھاکہ وہ فلاں زمانہ میں پیدا ہوگا اور جس وقت پیدا ہوگا فلاں قوم دُنیا میں اپنی سلطنت اور طاقت میں غالب ہوگی اور فلاں قسم کی مخلوق پرستی رُوئے زمین پر پھیلی ہوئی ہوگی۔اسی زمانہ میں وہ موعود پیدا ہوا اور وہ صلیب کا زمانہ اور عیسیٰ پرستی کا زمانہ ہے۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۶۶ تا ۲۶۹) ۱۸۹۲ء ’’مجھے دکھلایا اور بتلایا گیا اور سمجھایا گیا ہے کہ دنیا میں فقط اسلام ہی حق ہے اور میرے پر ظاہر کیا گیا کہ یہ سب کچھ ببرکت پیروی حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تجھ کو ملا ہے اور جو کچھ ملا ہے اُس کی نظیر دوسرے مذاہب میں نہیں کیونکہ وہ باطل پر ہیں۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۲۷۶) ۱۸۹۲ء (الف) ’’ مجھے یہ قطعی طور پر بشارت دی گئی ہے کہ اگر کوئی مخالف ِ دین میرے سامنے مقابلہ کے لئے آئے گا تو مَیں اس پر غالب ہوں گا اور وہ ذلیل ہوگا۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵ صفحہ ۳۴۸) (ب)’’وَاَوْحٰی اِلَـیَّ بِـاَنَّنِیْ غَالِبٌ عَلٰی کُلِّ خَصِیْمٍ اَعْـمٰی۔وَقَالَ اِنِّیْ مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ۱؎۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۳۸۲) ۱ (ترجمہ از ناشر) اور خدا نے میری طرف وحی کی کہ میں ہر اندھے دشمن پر غالب ہوں۔اور فرمایا میں اس کی اہانت کروں گا جو تیری اہانت کا ارادہ کرے گا۔