تذکرہ — Page 191
(ج) ’’ مجھے اُس نے اپنے فضل و کرم سے اپنے خاص مکالمہ سے شرف بخشا ہے اور مجھے اطلاع دے دی ہے کہ مَیں جو سچا اور کامل خدا ہوں مَیں ہر ایک مقابلہ میں جو رُوحانی برکات اور سماوی تائیدات میں کیا جائے تیرے ساتھ ہوں اور تجھ کو غلبہ ہوگا۔‘‘ (جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد۶ صفحہ ۱۳۷،۱۳۸) ۱۸۹۲ء ’’مجھے اطلاع دی گئی ہے کہ مَیں ان مسلمانوں پر بھی اپنے کشفی اور الہامی علوم میں غالب ہوں۔ان کے ملہموں کو چاہیے کہ میرے مقابل پر آویں۔پھر اگر تائید الٰہی میں اور فیضِ سماوی میں اور آسمانی نشانوں میں مجھ پر غالب ہوجائیں تو جس کا رد سے چاہیں مجھ کو ذبح کردیں مجھے منظور ہے اور اگر مقابلہ کی طاقت نہ ہو تو کُفر کے فتوے دینے والے جو الہاماً میرے مخاطب ہیں یعنی جن کو مخاطب ہونے کے لئے الہامِ الٰہی مجھ کو ہوگیا ہے پہلے لکھ دیں اور شائع کرا دیں کہ اگر کوئی خارق عادت امر دیکھیں تو بلاچون و چرا دعویٰ کو منظور کرلیں مَیں اس کام کے لئے بھی حاضر ہوں اور میرا خداوندِ کریم میرے ساتھ ہے لیکن مجھے یہ حکم ہے کہ مَیں ایسا مقابلہ صرف ائمۃ الکفر سے کروں۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۳۴۸) ۱۸۹۲ء ’’اَحَادُالنَّاس کہ جو امام اور فضلا علم کے نہیں ہیں اور نہ ان کا فتویٰ ہے ان کےلئے مجھے یہ حکم ہے کہ اگر وہ خوارق دیکھنا چاہتے ہیں تو صحبت میں رہیں۔خدائے تعالیٰ غنی بے نیاز ہے جب تک کسی میں تذلل اور انکسار نہیں دیکھتا اس کی طرف توجہ نہیں فرماتا لیکن وہ اس عاجز کو ضائع نہیں کرے گا اور اپنی حجّت دنیا پر پوری کردے گا اور کچھ زیادہ دیر نہیں ہوگی کہ وہ اپنے نشان دکھاوے گا۔‘‘ (آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد۵صفحہ۳۴۹) ۱۰؍دسمبر۱۸۹۲ء ’’یہی خط؎۱ لکھتے لکھتے یہ الہام ہوا۔یَـجِیْٓئُ الْـحَقُّ وَ یُکْشَفُ الصِّدْ قُ وَ یَـخْسَـرُ الْـخَاسِـرُوْنَ۔یَـاْتِیْ قَـمَرُ الْاَ۔نْبِیَآءِ وَ اَمْرُکَ یَتَاَتّٰی۔اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُـرِیْدُ۔یعنی حق ظاہر ہوگا اور صدق کھل جائے گا اور جنہو ں نے بدظنّیوں سے زیان اُٹھایا وہ ذلّت اور رُسوائی کا زیان بھی اُٹھائیں گے۔نبیوں کا چاند آئے گا اور تیرا کام ظاہر ہوجائے گا۔تیرا ربّ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔۱ (نوٹ از مولانا جلال الدین شمسؓ) یعنی خط بنام نواب محمد علی خاں صاحبؓ آف مالیر کوٹلہ مندرجہ آئینہ کمالاتِ اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحہ ۳۳۱ تا ۳۵۷۔