تذکرہ — Page 168
مُرَادِہٖ وَتَکْمِیْلِ مَوَاعِیْدِہٖ کَمَا جَرَتْ عَادَتُہٗ بِالْاَ بْدَالِ وَالْاَقْطَابِ وَالصِّدِّیْقِیْنَ۔فَرَاَیْتُ اَنَّ رُوْحَہٗ اَحَاطَ عَلَـیَّ وَاسْتَوٰی عَلٰی جِسْمِیْ وَلَفَّنِیْ فِیْ ضِـمْنِ وُجُوْدِہٖ حَتّٰی مَا بَقِیَ مِنِّیْ ذَرَّۃٌ وَّکُنْتُ مِنَ الْغَآئِبِیْنَ۔وَنَظَرْتُ اِلٰی جَسَدِیْ فَاِذَا جَوَارِحِیْ جَوَارِحُہٗ وَعَیْنِیْ عَیْنُہٗ وَاُذُنِیْ اُذُنُہٗ وَلِسَانِیْ لِسَانُہٗ۔اَخَذَنِیْ رَبِّیْ وَاسْتَوْفَانِیْ وَاَکَّدَ الْاِسْتِیْفَآءَ حَتّٰی کُنْتُ مِنَ الْفَانِیْنَ۔وَ وَجَدْتُّ قُدْرَتَہٗ وَقُوَّتَہٗ تَفُوْرُ فِیْ نَفْسِیْ وَاُلُوْھِیَّتَہٗ تَتَمَوَّجُ فِیْ رُوْحِیْ وَضُرِبَتْ حَوْلَ قَلْبِیْ سُـرَادِقَاتُ الْـحَضْرَۃِ وَ دَقَّقَ نَفْسِیْ سُلْطَانُ الْـجَبَرُوْتِ۔فَـمَا بَقِیْتُ وَمَا بَقِیَ اِرَادَتِیْ وَلَا مُنَایَ۔وَانْـھَدَ مَتْ عِـمَارَۃُ نَفْسِیْ کُلُّھَا وَتَرَاءَتْ عِـمَارَاتُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔وَانْـمَـحَتْ اَطْلَالُ وُجُوْدِیْ وَعَفَتْ بَقَایَا اَنَـانِیَّتِیْ وَمَا بَقِیَتْ ذَرَّۃٌ مِّنْ ھُوِیَّــتِیْ۔وَ الْاُلُوْھِیَّۃُ غَلَبَتْ عَلَیَّ غَلَبَۃً شَدِیْدَۃً تَآمَّۃً وَّ جُذِبْتُ اِلَیْھَا مِنْ شَعْرِ رَاْسِیْ اِلٰی اَظْفَارِ اَرْجُلِیْ۔فَکُنْتُ لُبًّا بِلَا قُشُوْرٍ وَّ دُھْنًا بِغَیْرِ ثُفْلٍ وَّ بُذُوْرٍ وَّ بُوْعِدَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ نَفْسِیْ فَکُنْتُ کَشَیْءٍ لَّا یُرٰی اَوْکَقَطْرَۃٍ رَّجَعَتْ اِلَی الْبَحْرِ فَسَتَرَہُ الْبَحْرُ بِرِدَآئِہٖ وَکَانَ تَـحْتَ اَموَاجِ الْیَمِّ کَالْمَسْتُوْرِیْنَ۔فَکُنْتُ فِیْ ھٰذِہِ الْـحَالَۃِ لَا اَدْرِیْ مَاکُنْتُ مِنْ قَبْلُ وَمَاکَانَ وُجُوْدِیْ وَکَانَتِ الْاُلُوْھِیَّۃُ نَفَذَتْ فِیْ عُرُوْقِیْ وَ اَوْتَارِیْ بقیہ ترجمہ۔اِس اثناء میں مَیں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کی رُوح مجھ پر محیط ہوگئی اور میرے جسم پر مستولی ہوکر اپنے وجود میں مجھے پنہاں کرلیا یہاں تک کہ میرا کوئی ذرّہ بھی باقی نہ رہا اور مَیں نے اپنے جسم کو دیکھا تو میرے اعضا اُس کے اعضا اور میری آنکھ اُس کی آنکھ اور میرے کان اُس کے کان اور میری زبان اس کی زبان بن گئی تھی۔میرے ربّ نے مجھے پکڑا اور ایسا پکڑا کہ مَیں بالکل اس میں محو ہوگیا اور مَیں نے دیکھا کہ اُس کی قدرت اور قوت مجھ میں جوش مارتی اور اُس کی الُوہیت مجھ میں موجزن ہے۔حضرت عزت کے خیمے میرے دل کے چاروں طرف لگائے گئے اور سلطانِ جبروت نے میرے نفس کو پیس ڈالا۔سو نہ تو مَیں مَیں ہی رہا اور نہ میری کوئی تمنّا ہی باقی رہی۔میری اپنی عمارت گر گئی اور ربّ العالمین کی عمارت نظر آنے لگی۔اور الُو ہیت بڑے زور کے ساتھ مجھ پر غالب ہوئی اور مَیں سر کے بالوں سے ناخنِ پا تک اس کی طرف کھینچا گیا پھر مَیں ہمہ مغز ہوگیا جس میں کوئی پوست نہ تھا اور ایسا تیل بن گیا جس میں کوئی مَیل نہیں تھی اور مجھ میں اور میرے نفس میں جُدائی ڈال دی گئی۔پَس مَیں اُس شے کی طرح ہوگیا جو نظر نہیں آتی یا اُس قطرہ کی طرح جو دریا میں جاملے اور دریا اُس کو اپنی چادر کے نیچے چھپالے۔اس حالت میں مَیں نہیں جانتا تھا کہ اس سے پہلے مَیں کیا تھا اور میرا وجود کیا تھا۔الُوہیت میری رگوں بقیہ ترجمہ از ناشر۔تا وہ اپنا مقصد پورا کرےاور اپنے وعدوں کی تکمیل کرے جیسا کہ ابدال اور اقطاب اور صدیقین کے ساتھ اس کی سنت جاری ہے۔