تذکرہ — Page 169
ْزَآءِ اَعْصَابِیْ وَ رَاَیْتُ وُجُوْدِیْ کَالْمَنْھُوْبِیْنَ۔وَکَاَنَّ اللّٰہَ اسْتَخْدَمَ جَـمِیْعَ جَوَارِحِیْ وَمَلَکَھَا بِقُوَّۃٍ لَّایُـمْکِنُ زِیَادَۃٌ عَلَیْـھَا فَکُنْتُ مِنْ اَخْذِہٖ وَ تَنَاوُلِہٖ کَاَنِّیْ لَمْ اَکُنْ مِّنَ الْکَآ۔ئِنِیْنَ۔وَکُنْتُ اَتَیَقَّنُ اَنَّ جَوَارِحِیْ لَیْسَتْ جَوَارِحِیْ بَلْ جَوَارِحُ اللّٰہِ تَعَالٰی وَکُنْتُ اَتَـخَیَّلُ اَنِّی انْعَدَمْتُ بِکُلِّ وُجُوْدِیْ وَانْسَلَخْتُ مِنْ کُلِّ ھُوِیَّــتِیْ۔وَالْاٰنَ لَا مُنَازِعَ وَلَا شَرِیْکَ وَلَا قَابِضَ یُزَاحِـمُ۔دَخَلَ رَبِّیْ عَلٰی وُجُوْدِیْ وَکَانَ کُلُّ غَضَبِیْ وَ حِلْمِیْ وَحُلْوِیْ وَ مُرِّیْ وَحَرَکَتِیْ وَسُکُوْنِیْ لَہٗ وَمِنْہُ۔وَ صِـرْتُ مِنْ نَّفْسِیْ کَالْـخَالِیْنَ۔وَ بَیْنَـمَا اَنَـا فِیْ ھٰذِہِ الْـحَالَۃِ کُنْتُ اَقُوْلُ اِنَّـا نُرِیْدُ نِظَامًا جَدِیْدًا۔سَمَآءً جَدِیْدَۃً وَّ اَرْضًا جَدِیْدَۃً فَـخَلَقْتُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ اَوَّلًا بِصُوْرَۃٍ اِجْـمَالِیَّۃٍ لَّا تَفْرِیْقَ فِیْھَا وَ لَا تَرْتِیْبَ۔ثُمَّ فَرَّقْتُـھَا وَ رَتَّبْتُـھَا بِـوَضْعٍ ھُوَ مُرَادُ الْـحَقِّ وَکُنْتُ اَجِدُ نَفْسِیْ عَلٰی خَلْقِھَا کَالْقَادِرِیْنَ۔ثُمَّ خَلَقْتُ السَّمَآءَ الدُّنْیَا وَقُلْتُ اِنَّـا زَیَّنَا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِـمَصَابِیْحَ ثُمَّ قُلْتُ الْاٰنَ نَـخْلُقُ الْاِنْسَانَ مِنْ سُلَالَۃٍ مِّنْ طِیْنٍ۔ثُمَّ انْـحَدَرْتُ مِنَ الْکَشْفِ اِلَی الْاِلْھَامِ فَـجَرٰی عَلٰی لِسَانِیْ۔بقیہ ترجمہ۔اور پٹھوں میں سرایت کر گئی اور مَیں بالکل اپنے آپ سے کھویا گیا اور اللہ تعالیٰ نے میرے سب اعضا اپنے کام میں لگائے اور اس زور سے اپنے قبضہ میں کرلیا کہ اُس سے زیادہ ممکن نہیں چنانچہ اس کی گرفت سے مَیں بالکل معدوم ہوگیا اور مَیں اُس وقت یقین کرتا تھا کہ میرے اعضا میرے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اعضا ہیں اور مَیں خیال کرتا تھا کہ مَیں اپنے سارے وجود سے معدوم اور اپنی ہَـوِیَّتْ سے قطعاً نکل چکا ہوں۔اَب کوئی شریک اور مُنازِع روک کرنے والا نہیں رہا۔خدا تعالیٰ میرے وجود میں داخل ہوگیا اور میرا غضب اور حلم اور تلخی اور شیرینی اور حرکت اور سکون سب اسی کا ہوگیا اور اس حالت میں مَیں یُوں کہہ رہا تھا کہ ہم ایک نیا نظام اور نیا آسمان اور نئی زمین چاہتے ہیں۔۱؎ سو مَیں نے پہلے تو آسمان اور زمین کو اجمالی صورت میں پیدا کیا جس میں کوئی ترتیب اور تفریق نہ تھی پھر مَیں نے منشاء ِ حق کے موافق اس کی ترتیب اور تفریق کی اور مَیں دیکھتا تھا کہ مَیں اس کے خلق پر قادر ہوں۔پھر مَیں نے آسمانِ دنیا کو پیدا کیا اور کہا۔اِنَّـا زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِـمَصَابِیْحَ۔پھر مَیں نے کہااب ہم انسان کو مٹی کے خلاصہ سے پیدا کریں گے۔پھر میری حالت کشف سے الہام کی طرف منتقل ہوگئی اور میری زبان پر ۱ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں۔’’ ایک دفعہ کشفی رنگ میں مَیں نے دیکھا کہ مَیں نے نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کیا ہے اور پھر مَیں نے کہا کہ آؤ اب انسان کو پیدا کریں۔اس پر نادان مولویوں نے شور مچایا کہ دیکھو اب اس شخص نے خدائی کا دعویٰ کیا حالانکہ اُس کشف سے یہ مطلب تھا کہ خدا میرے ہاتھ پر ایک ایسی تبدیلی پیدا کرے گا کہ گویا آسمان اور زمین نئے ہوجائیں گے اور حقیقی انسان پیدا ہوں گے۔‘‘ (چشمۂ مسیحی۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۷۵، ۳۷۶ حاشیہ)